حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے واقعہ پر اشکال:
Question
اشکال: حضرت عمر بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کے اس واقعہ پر کہ میری قبر پر کچھ دیر رک جاؤ تا کہ میں مانوس ہو جاؤں، سلفی حضرات اشکال کرتے ہیں کہ یہ واقعہ اس حدیث کے خلاف ہے جس میں منکر نکیر کا سوال و جواب کے لیے آنا لوگوں کے جانے کے بعد مذکور ہے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن أنس رضي الله تعالى عنه عن النبي ﷺ قال: العبد إذا وضع في قبره وتولي وذهب أصحابه حتى أنه يسمع قرع نعالهم أتاه ملكان
الحديث.
اس کا کیا جواب ہے؟
Answer
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کے واقعہ میں
"تولي"
سے
"فرغوا عن دفنه"
مراد ہے
"أي تولي أصحابه عن التدفين وذهبوا عن التدفين"
اگر اس سے لوگوں کا جانا مراد ہو تو اگر کسی کی قبر پر لوگ ایک سال بیٹھے رہیں تو کیا سوال و جواب نہیں ہوگا؟
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.