مسجد یا مدرسہ کا پانی گھر لے جانے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 1 #325Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۸): احکامِ مساجد کا بیان

Question

مسجد یا مدرسہ کا پانی گھر لے جانے کا کیا حکم ہے احسن الفتاوی میں ناجائز لکھا ہے اس کی کیا حیثیت ہے؟

Answer

مسجد یا مدرسہ کا پانی گھر لے جانا اس وقت جائز ہے جبکہ واقفین نے اسے رفاہ عام کے لیے لگایا ہو اور محلہ والوں کو پانی بھر نے کی اجازت دی ہو اور اگر واقفین نے اس کو مسجد ہی کے لیے مخصوص کیا ہو تولے جانا درست نہیں، اور اگر اجازت ہو تو درست ہے عام طور پر مسجد کے کنویں سے لوگ پانی لے جاتے ہیں اور واقفین اس کی نیت کرتے ہیں اسی طرح جو باہر کا آتا ہے اس میں بھی بقدر ضرورت لے جانے کی اجازت ہو تی ہے ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
غسل خانہ اگر حدود مسجد میں ہے تو عام لوگوں کے لیے اس کا استعمال جائز نہیں، صرف امام، مؤذن اور خدمت مسجد سے متعلقہ افراد ہی اسے استعمال کر سکتے ہیں اور اگر ضروریات مسجد کے لیے زمیں کا وقف تام ہو نے سے پہلے رفاہ عام کے لیے لگا یا گیا ہے توہر شخص کو پانی لے جانے کی اجازت ہے بشرطیکہ مسجد کی تلویث نہ ہو اور اس سے نمازیوں کو تشویش اور ایذاء نہ ہو ۔ (احسن الفتاوی: ٦/٤٤۷) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
ٹنکی کا پانی مسجد کے لیے مخصوص ہے محلہ والوں کو پانی بھر نے کی اجازت دینا صحیح نہیں ہے باعث نزاع بھی ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٦/۹۰) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر مسجد میں کنواں یا نل لگا ہوا ہو تو اس کنویں سے پانی فقط وضو برائے نماز نمازی ہی کام میں لا سکتے ہیں یا دیگر آدمی محلہ کے باشندے خرچہ ضروری میں کام میں لا سکتے ہیں؟
ایسے کنویں کا پانی علاوہ نماز دوسرے کام میں لا نا بھی درست ہے، لیکن احتیاط ضروری ہے یعنی وہ کنواں اگر مسجد کے فرش پر ہے تو اس کا خیال کرنا چاہیے کہ مسجد کا فرش نجاست سے ملوث نہ ہو، نیز مسجد کے ڈول رسی کا استعمال درست نہیں، اگر ڈول رسی دینے والے نے عام اجازت دی ہو تو درست ہے اور مسجد کے نل کو اتنا زیادہ اور زور سے استعمال نہ کیا جائے کہ جلد خراب ہو جائے اور اگر مسجد کی آمدنی سے لگا یا ہے تو ضروریاتِ نماز کے علاوہ استعمال نہ کیا جائے ۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/۱٦۰) ۔
نیز ایک مقام پر ہے ۔
اس نل سے اہل محلہ کو پانی لینا درست ہے مگر احتیاط سے استعمال کریں اگر خراب ہو جائے تو اس کی اصلاح بھی کرا دیا کریں، یہ بات نہ ہو کہ پانی تو اہل محلہ بھریں اور مرمت مسجد کے ذمہ ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۵/۱۷۸) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
سوال: مسجد کے متولی صاحب مسجد کے کنویں کو احتیاط اور طہارت کی وجہ سے نمازیوں کے لیے مخصوص کرتے ہیں عام محلہ والوں کو اپنے گھروں پر لے جانے کی اجازت نہیں ہے عوام پانی کے جو برتن لا تے ہیں ان کو توڑ پھوڑ ڈالتے ہیں شرعی حکم سے مطلع فرمائیں؟
جواب: مسجد کی تنظیف و تطہیر کے لیے منع کر نا جائز ہے جب کہ قریب میں ایسا دوسرا کنواں یا پانی کا ایسا نظم ہو جس سے عوام کی حاجت پوری ہو س کے اور اگر دوسرا کنواں یا پانی کا نظم نہ ہو تو منع کر نا حرام ہے، اور گھڑے پھوڑ دینا ظلم اور حرام ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۷۱۵) ۔
بزازیہ میں ہے:

وحمل ماء السقاية إلى أهله إن كان مأذونا للحمل يجوز وإلا فلا. (الفتاوى البزازية: ٦/۳۷۲).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ويجوز أن يحمل ماء السقاية إلى بيته ليشرب أهله كذا في قاضي خان. (الفتاوى الهندية: ۳/۳۰٦).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.