مسجد کے لیے وقف کیے گئے قرآن باہر لے جانا:

2 min readFatwa Vol 1 #340Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۸): احکامِ مساجد کا بیان

Question

اگر کسی نے قرآن کریم مسجد کے لیے وقف کیا ہو تو اُس کو پڑھنے کے لیے باہر لے جانا درست ہے یا نہیں؟

Answer

جو قرآن کریم مسجد کے لیے وقف کیا گیا ہو اس کو پڑھنے کے لیے باہر لے جانا درست نہیں ہے ۔ فتاوی محمودیہ میں ہے ۔
"جو پارے یا کتب جس مسجد کے لیے وقف ہو ان کو دوسری جگہ لے جانے کی اجازت نہیں ہے ۔" (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۲۹٦)
احسن الفتاوی میں ہے:
" اگر کتاب مسجد پر وقف ہے تو اُس کا دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں مسجد کی حدود میں ہی اس سے انتفاع کیا جائے ۔" (احسن الفتاوی: ٦/٤۵۰)
الدر المختار میں ہے:

"وقف مصحفاً على أهل مسجد للقراءة أن يحصون جاز وإن وقف على المسجد جاز ويقرأ فيه."

رد المحتار میں ہے:

"لو وقف المصحف على المسجد أي بلا تعيين أهله قيل يقرأ فيه أي يختص باهله المترددين إليه وقيل لا يختص به أي فيجوز نقله إلى غيره وقد علمت تقوية القول الأول بما مر عن القنية وبقي لو عمم الواقف بأن وقفه على طلبة العلم لكنه شرط ألا يخرج من المسجد أو المدرسة كما هو العادة." (الدر المختار: ٤/۳٦۵، ۳٦٦)

البتہ اگر کسی نے مسجد سے قرآن لیا اور پھر صحن اور فناء مسجد میں پڑھنے کے لیے بیٹھ گیا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ احناف کے نزدیک فنائے مسجد اگر چہ مسجد نہیں ہے لیکن بعض اوقات اس کو مسجد کے حکم میں شمار کرتے ہیں ۔ اور فقہاء کرام بعض وقت فناء مسجد میں بھی ایسے کام کرنے سے منع کرتے ہیں جس سے شان مسجد میں فرق آئے اور اس کی حرمت برقرار نہ ر ہے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:

"قيم المسجد لا يجوز له أن يبني حوانيت في حد المسجد أوفي فنائه لأن المسجد إذا جعل حانوتاً ومسكناً تسقط حرمته وهذا لا يجوز والفناء تبع المسجد فيكون حكمه حكم المسجد". (الفتاوى الهندية: ۲/٤٦۲).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.