مسجد میں تنخواہ لے کر بچوں کو تعلیم دینے کا حکم:
Question
اگر کوئی امام مسجد میں بچوں کو پڑھاتا ہو اور پڑھانے کے لیے تنخواہ لیتا ہے تو یہ درست ہے یا نہیں؟
Answer
وفي الهندية: وأما المعلّم الذي يعلم الصبيان بأجر إذا جلس في المسجد يعلّم الصبيان لضرورة الحر وغيره لا يكره. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۱۰، وكذا في خلاصة الفتاوى: ۱/۲۲۹).
احسن الفتاوی میں ہے: تنخواہ دار مدرس کا مسجد میں پڑھانا جائز نہیں اگر مسجد سے باہر کوئی جگہ نہ ہو تو مسجد میں پڑھانا بشرائط ذیل جائز ہے:
(۱) مدرس تنخواہ کی ہوس کے بجائے گزر اوقات کے لیے بقدر ضرورت وظیفہ پر اکتفا کرے ۔
(۲) نماز اور ذکر و تلاوت قرآن وغیرہ عبادت میں مخل نہ ہو ۔
(۳) مسجد کی طہارت و نظافت اور ادب و احترام کا پورا خیال رکھا جائے ۔
(٤) کمسن اور نا سمجھ بچوں کو مسجد میں نہ لایا جائے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/٤۵۸) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
مسجد میں مستقلاً تنخواہ دینا مکروہ ہے خاص کر ایسی حالت میں جبکہ مسجد کے قریب کمرہ بھی ہے جس میں تعلیم دی جا سکتی ہے، چھوٹے بچے پاکی ناپاکی کی تمیز نہیں رکھتے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰ /۱۵۰) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
مسجدوں میں اجرت لے کر تعلیم دینے کو فقہاء نا درست قرار دیتے ہیں اس لیے کہ مسجدیں عبادت و تذکیر کی جگہ ہیں نہ کہ کسب معاش کی مگر ہمارے زمانہ کے حالات کا تقاضا ہے کہ اس کی اجازت دی جائے اس لیے کہ عموماً وسائل کے فقدان دوسری جگہ کی عدم دستیابی اور مجبوری کی وجہ سے ہوتا ہے اب اگر اس معاملہ میں شدت برتی جائے تو یہ سخت نقصان کی بات ہو گی اور شرعی مصلحت کے خلاف بھی کہ عصری درس گاہوں کے طلباء جو اس طرح صبح و شام تھوڑے وقت میں دین کی بنیادی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں وہ اس سے بھی محروم ہو جائیں اسی طرح ایسے ہمہ وقتی مدارس کا بند ہونا اس علاقہ کے لوگوں کے لیے تعلیم سے محرومی کا سبب بنے گا بعض بزرگ اس معاملہ میں زیادہ ہی شدت برتتے ہیں حالانکہ خود کتب فقہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ضرورۃً مسجد میں تعلیم دی جا سکتی، ہاں اگر کوئی دوسری جگہ موجود ہو تو مسجد کے بجائے وہی تعلیم دینی چاہیے ۔ بحوالہ عالمگیری و خلاصہ الفتاوی ۔ (جدید فقہی مسائل ۱/۷۳) ۔
وفي البزازية: "وتعليم الصبيان فيه (أي المسجد) بلا أجر وبالأجر يجوز". (الفتاوى البزازية: ٦/۳۵۷، نوع في المسجد من كتاب الكراهية).
مسجد میں اجرت لے کر تعلیم دینے کے بارے میں احناف کی کتبِ فقہ میں مختلف عبارتیں پائی جاتی ہیں، بعض کتب فقہ میں مطلقاً مکروہ لکھا ہے: مثلاً فتح القدیر، شرح منیۃ المصلی، الاشباہ و النظائر، فتاوی نوازل، فتاوی قاضی خان وغیرہ اور بعض کتب فقہ میں ضرورت کی بنا پر جائز لکھا ہے: مثلاً ً خلاصۃ الفتاوی، فتاوی عالمگیری البتہ فتاوی بزازیہ میں مطلقاً جائز لکھا ہے جیسا کہ عبارت ذکر کی گئی، لہذا اب زمانہ کی ضرورت اور تعلیم کی اہمیت کی بنا پر بزازیہ کی عبارت کے پیش نظر مطلقاً جائز قرار دیا جائے، تو ان شاء اللہ خلاف صواب نہ ہو گا البتہ مسجد کے ادب و احترام کا لحاظ رکھا جائے تاکہ نصوص کی مخالفت بھی لازم نہ آئے ۔
میرے خیال میں اگر سمجھدار بچوں کو مسجد میں پڑھا دیں اور تنخواہ لے تو گنجائش ہونی چاہیے کیونکہ اس پڑھانے کا فائدہ لوگوں کے بچوں کی اصلاح اور دیندار بننے کی شکل میں ظاہر ہو گا، یہ انفرادی صنعت کی طرح نہیں یہ تو مصالح المسلمین کے قبیل سے ہو گا، جیسے مسجد میں امامت اجرت کے ساتھ جائز ہے کیونکہ یہ دین کو رواج دینے کے مترادف ہے، مسجد میں پڑھانا بھی امامت کی طرح ہے ہاں مسجد کے باہر جگہ ہو تو وہاں پڑھانا چاہیے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.