جدہ میں مقیم شخص کے لیے حج و عمرہ کا احرام جدہ سے باندھنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #517Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

ایک شخص جدہ میں مقیم ہے وہاں پر کاروبار وغیرہ کرتا ہے، اب وہ شخص حج، عمرہ کے لیے جانا چاہتا ہے تو حج اور عمرہ کا احرام کہاں سے باندھے گا؟ کیا اپنے گھر سے احرام باندھنا ضروری ہے؟ یا مکہ مکرمہ آ کر احرام باندھنا بھی درست ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ ایسے شخص کے لیے اپنے گھر سے ہی حج عمرہ کا احرام باندھنا افضل ہے، اور اگر اپنے گھر سے نہیں باندھا تو حدودِ حرم میں داخل ہونے سے پہلے باندھنا لازم اور ضروری ہے ورنہ گناہ گار ہوگا اور دوبارہ حل میں واپس آ کر احرام باندھنا ضروری ہوگا اور اگر واپس نہیں آیا اور حرم میں احرام باندھ کر عمرہ یا حج کیا تو ایک دم واجب ہوگا ۔ ملاحظہ ہو شرح اللباب میں ہے:

فصل في الصنف الثاني، وهم الذين منازلهم في نفس الميقات، أو داخل الميقات إلى الحرم فوقتهم الحل أي فميقاتهم جميع المسافة من الميقات إلى انتهاء الحل للحج والعمرة وهم في سعة أي جواز ورخصة، وعدم لزوم كفارة ما لم يدخلوا أرض الحرم أي بلا إحرام، ومن دويرة أهلهم أفضل أي لهما، ولهم دخول مكة بغير إحرام إذا لم يريدوا نسكاً وإلا أي: وإن أرادوا نسكاً فإن النفي إثبات، فيجب أي الإحرام حينئذٍ. (شرح اللباب، ص۹۲، باب المواقيت).

عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر کوئی حل یا حرم کا رہنے والا مسلمان مکلف یعنی عاقل بالغ شخص حج کا ارادہ کرے اور اپنے میقات سے بلا احرام آگے چلا جائے اس کے بعد وہ احرام باندھے یا نہ باندھے وہ گنہگار ہوگا اور اس پر آفاقی کی طرح اپنے میقات پر واپس آنا واجب ہے اور اگر وہ اپنے میقات پر واپس نہ لوٹا تو اس پر دم واجب ہوگا ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۱۰۸، میقات کا بیان) ۔
نوٹ: بعض کتابوں میں یہ مسئلہ مرقوم ہے کہ حرم میں احرام باندھنے کے بعد میقات کی طرف نہیں لوٹا لیکن وقوفِ عرفہ کے لیے میدانِ عرفات چلا گیا جو کہ خارجِ حرم ہے تو اس سے دمِ مجاوزت ساقط ہو گیا ۔ (ملاحظہ کیجیے: ارشاد الساری، ص۹۲ ۔ ۹۳، و فتاوی الشامی: ۲/٤۷۸، سعید وغیرہ) ۔
لیکن دیگر کتب (مثلاً شرح اللباب، وغیرہ) میں یہ مرقوم ہے کہ افعالِ حج شروع کرنے سے پہلے لوٹنا واجب ہے اگر افعالِ حج شروع کر چکا تو دم ساقط نہیں ہوگا، اور وقوفِ عرفہ سے پہلے ہی افعالِ حج شروع ہو جاتے ہیں نیز میدانِ عرفات جانا ادائیگی رکن کے لیے ہے نہ کہ تلافی واجب کے لیے، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہاں حرم سے نکلنا دوامِ احرام کے لیے ہے ابتدائے احرام کے لیے نہیں ہے بنا بریں دم ساقط نہیں ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔

وللمزيد راجع: (ارشاد الساري إلى مناسك الملا علي القاري، ص۹۲. ۹۳، وغنية الناسك في بغيه المناسك، ص۲۷، ۲۸، باب المواقيت، وعمدة الفقه: ٤/۱۰۱، وزبدة المناسك، ص ٦۱، وفتاوى الشامي: ۲/٤۷۸، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.