جدہ میں رہنے والے کے لیے تمتع و قران کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #518Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

ایک شخص جدہ میں قیام پذیر ہے وہ شخص وہاں سے تمتع یا قران کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے یہ جائز ہوگا یا نہیں؟ یا فقط افراد کرنا ضروری ہوگا؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ مقامی لوگوں کے لیے فقط افراد متعین ہے تمتع اور قران کرنا ان کے لیے جائز اور درست نہیں ہے ۔ ہاں جدہ میں قیام پذیر شخص چاہے وہ ملازمت
كرتا ہ
و یا تجارت وغیرہ کے سلسلہ میں آیا ہو ایسے شخص کے لیے تمتع و قران کرنے کی گنجائش ہے ۔ ملاحظہ ہو شرح اللباب میں مذکور ہے:

(لا قران لا هل مكة) أي حقيقة أو حكماً (ولا لا هل المواقيت وهم الذين منزلهم في نفس الميقات) وكذا من حاذاهم من غيرهم (ولا لا هل الحل وهم الذين بين المواقيت والحرم) وهذا لقوله تعالى: ﴿ذلك لمن لم يكن أهله حاضري المسجد الحرام﴾ [البقرة: ۱۹٦]، والإشارة إلى التمتع، وفي معناه القران. (شرح اللباب، ص۲۹٦، فصل في قران المكي).
وقال فيه: ليس لا هل مكة أي المقيمين بها وأهل المواقيت أي نفسها وما حاذاها ومن بينها وبين مكة أي بين الحل من داخل المواقيت وبين الحرم المحترم تمتع للآية المذكورة فمن تمتع كان عاصياً أي لمخالفته الآية ومسيئاً أي في فعله لتركه السنة. (شرح اللباب، ص۳۰۲، فصل في تمتع المكي).

عمدۃ الفقہ میں ہے:
اہل حل یعنی حدودِ مواقیت و حدودِ حرم کے درمیانی علاقہ میں رہنے والوں کے لیے بھی قران حلال نہیں ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۲٦۵) ۔
نیز مذکور ہے: اہل مکہ اور اہل مواقیت یعنی جو عین میقات یا محاذاتِ میقات کے رہنے والے ہیں اور داخل مواقیت یعنی مواقیت و مکہ مکرمہ کے مابین علاقہ کے رہنے والوں یعنی اہل حل و اہل حدودِ حرم کے لیے تمتع کرنا مشروع و درست نہیں ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۲۷۷) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
جنھوں نے وہاں (جدہ یا مکہ کو ) وطنِ اصلی نہیں بنایا صرف ملازمت یا تجارت وغیرہ کے لیے وہاں مقیم ہیں وہ قران اور تمتع کر سکتے ہیں

قال في الشامية: في بيان شروط التمتع نقلاً عن اللباب التاسع عدم التوطن بمكة فلو اعتمر ثم عزم على المقام بمكة أبداً لا يكون متمتعاً وإن عزم شهرين أي مثلاً وحج كان متمتعاً (وبعد سطر) الحادي عشر أن يكون من أهل الآفاق والعبرة للتوطن فلو استوطن المكي في المدينة مثلاً فهو آفاقي وبالعكس مكي

(
احسن الفتاوی: ٤/۵۱۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.