ازواجِ مطہرات کے ولیمہ کی کیفیت:
Question
ازواجِ مطہرات کے ولیمہ کی کیا کیفیت تھی؟ یعنی کھانا کیا ہوتا تھا اور تقریباً کتنے افراد شریکِ طعام ہوتے ہیں؟ نیز حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ولیمہ کو بھی نہ بھولے ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
آنحضرت ﷺ اور ازواجِ مطہرات کے ولیمہ کی کیفیت مختلف اوقات کے اعتبار سے مختلف ہوتی تھی، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا کا ولیمہ:
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ولیمہ کے بارے میں صرف ایک روایت ملتی ہے جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے ایک اونٹ ذبح فرمایا تھا اور ایک قول کے مطابق دو اونٹ ۔
شرکائے ولیمہ کی تعداد:
نیز اس میں عدد کا بھی ذکر نہیں ہے لیکن بظاہر اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس میں بڑی تعداد ہوگی اس لیے اونٹ بڑا جانور ہے لہذا کھانے والے بھی زیادہ ہوں گے ۔
قال في السيرة الحلبية: باب تزويجه ﷺ خديجة بنت خويلد رضي الله تعالى عنها أو لم عليها ﷺ نحر جزوراً وقيل جزورين. (السيرة الحلبية: ۱/۱۲۹، دار إحياء التراث العربي).
(۲) ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا ولیمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ولیمہ کے بارے میں دو قسم کی روایات ملتی ہیں ؛ پہلی قسم کی روایات میں ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضي الله عنه کے گھر سے جفنہ بھیجا گیا، اور دوسری قسم کی روایات میں قدح اور لبن کا تذکرہ آتا ہے اور دونوں میں کوئی تعارض بھی نہیں ہے کیوں کہ جفنہ بڑے پیالے کو کہتے ہیں اور قدح بھی پیالے کو کہتے ہیں ممکن ہے کہ دونوں سے ایک ہی مراد ہو یا دونوں کو بھیجا ہو ۔
شرکائے ولیمہ کی تعداد:
اور شرکت کرنے والوں میں آنحضرت ﷺ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ان کی چند سہیلیاں تھیں ۔ ملاحظہ کیجیے: (مسند احمد: ٤۲/۵۰٤، رقم: ۲۵۷٦۹مع تعلیقات الشیخ شعیب، و السیرۃ الحلبیۃ: ۲/۳٤۱، و سبل الہدی و الرشاد: ۹/۵۵، و شرح الزرقانی علی المواہب: ۳/۲۳۲) ۔
(۳) ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا ولیمہ:
بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی ایک اہلیہ محترمہ کا ولیمہ دو مد جو سے فرمایا، حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں کہ غالب گمان یہ ہے کہ یہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا ولیمہ تھا، اور اس کی تائید میں ابن سعد کی ایک روایت پیش کی ہے، طبرانی میں ایک روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ام سلمہ رضي الله عنه کے ولیمہ میں کھجور اور گھی کھلایا تھا البتہ ابن حجر رحمه الله نے اس کو راوی کا وہم قرار دیا ہے ۔
دلائل ملاحظہ فرمائیے: (فتح الباری: ۹/۲۳۹، الطبقات لابن سعد: ۸/۹۲، و سبل الہدی و الرشاد: ۱۱/۸۹، و۹/ ۵۵، و مرقاۃ المفاتیح: ٦/۲۵۲، مکتبہ امدادیہ) ۔
(٤) ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا کا ولیمہ:
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا کے ولیمہ سے متعلق دو قسم کی روایات ملتی ہیں ؛ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بکری ذبح کر کے صحابہ کرام کو گوشت، روٹی کھلائی، اور دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے مختلف چیزوں سے بنا ہوا حلوہ بھیجا تھا وہ صحابہ کرام کو کھلایا تھا، لیکن دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے بلکہ پہلے گوشت اور روٹی کھلائی اور کھانے کے درمیان حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ حلوہ لائے تو بعد میں وہ بھی کھلایا ۔
شرکائے ولیمہ کی تعداد:
حافظ ابن حجر رحمه الله کے قول کے مطابق تقریباً ہزار افراد نے کھانا تناول فرمایا (فتح الباری)، حضرت انس
رضي الله عنه
فرماتے ہیں کہ حضور نے مجھے بلانے بھیجا تو تین سو کے قریب افراد کو بلایا (مسلم)، اور ابن سعد کی روایت میں ہے ۷۱ یا ۷۲ تھے لیکن اس کی سند میں محمد بن عیسیٰ العبدری ضعیف ہیں، ممکن ہے کہ حضرت انس
رضي الله عنه
نے جب تین سو کو بلایا اس سے پہلے دوسرے حضرات کھانے سے فارغ ہو کر چلے گئے ہو ں ۔ بنا بریں یہ ابن حجر رحمه الله کے قول کے منافی نہیں ہے ۔
حوالہ جات ملاحظہ کیجیے: (مشکوٰۃ شریف، ص ۲۷۸، و فتح الباری: ۹/ ۲۲۷، دار نشر الکتب الاسلامیہ، و سبل الہدی و الرشاد: ۱۱/۲۰۲، و طبقات ابن سعد: ۸/۱۰٤، و مسلم شریف: ۱/٤٦۱، و لسان المیزان: ۷/٤۲٦) ۔
(۵) ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا:
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح آپ ﷺ کے ساتھ حبشہ میں ہوا، اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نجاشی نے آپ کا نکاح پڑھایا، اور بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے پڑھایا، پھر بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نجاشی نے ولیمہ کا کھانا کھلایا اور دوسری بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان غنی
رضي الله عنه
نے ثرید کھلایا ۔
شرکائے ولیمہ کی تعداد:
اور مہاجرین صحابہ کو کھلایا تھا اس لیے تعداد بھی اسی کے قریب تھی ۔ (ماخوذ از سبل الہدی و الرشاد: ۱۱/۱۹۵، و الاستیعاب: ٤/۱۸٤٤) ۔
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب فرماتے ہیں:
نیز اس میں اشکال نہ ہو کہ اگر یہ ولیمہ کا کھانا تھا تو زفاف سے پہلے کیسے دیا گیا اس لیے کہ بعض علماء زفاف سے قبل بھی ولیمہ کے قائل ہے گو جماہیر علماء کے نزدیک زفاف کے بعد ہوتا ہے اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے واقعہ میں پہلے دینے کی وجہ ظاہر ہے کہ نکاح حبشہ میں ہوا تھا اور حضور ﷺ مدینہ منورہ میں تھے زفاف میں دیر تھی اس لیے نجاشی یا حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے ولیمہ کی سنت ادا کر دی تاخیر مناسب نہ سمجھی ۔ (کفایت المفتی: ۵/۱۵۷، دار الاشاعت) ۔
(٦) ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا ولیمہ:
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ولیمہ کے بارے میں صحیحین میں مذکور ہے کہ ولیمہ میں حلوہ کھلایا گیا، اور بخاری کی ایک روایت میں ہے تمر (چھوارے)، اقط (پنیر) اور سمن (گھی) کا ذکر ہے اور ترمذی وغیرہ میں سویق (ستو)، تمر (چھوارے) کا ذکر ہے لیکن اس میں کوئی تعارض نہیں ہے کیوں کہ حلوہ میں چھوارے، پنیر اور گھی وغیرہ ملایا جاتا ہے اور کبھی کبھی ستو بھی ڈالے جاتے ہیں ۔
شرکائے ولیمہ کی تعداد:
نیز حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا ولیمہ خیبر سے واپسی کے وقت ہوا تھا اور اس وقت مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۱٦۰۰ تھی لہذا قرین قیاس یہی ہے کہ شرکت کرنے والے افراد بھی اسی کے قریب قریب ہوں گے ۔
ملاحظہ کیجیے: (مشکوٰۃ شریف: ۱/۲۷۸، و تحفۃ الاحوذی: ٤/۱٦۳، دار الفکر، و مرقاۃ المفاتیح: ٦/۲۵٤، ط: امدادیہ، و شرح الزرقانی علی المواہب: ۲/۲۳۱، و سبل الہدی و الرشاد: ۱۱/۲۱۳، و طبقات ابن سعد: ۸/۱۲۵، دار صادر بیروت) ۔
(۷) ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کا ولیمہ:
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ولیمہ کے بارے میں کوئی صریح روایت یا ذکر نہیں ملا، البتہ حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں کہ قیاس کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک بکری سے زیادہ کا ولیمہ فرمایا ہوگا اس لیے کہ اس وقت کے حالات فراخی والے تھے ۔
شرکائے ولیمہ کی تعداد:
کیونکہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کا ولیمہ عمرۃ القضاء سے واپسی پر ہوا تھا اور اس وقت صحابہ کرام کی تعداد تقریباً ۲ ہزار یا اس سے کچھ زیادہ تھی، بنا بریں شرکاء کی تعداد بھی اسی کے قریب ہونی چاہیے ۔
دیکھیے: (فتح الباری: ۹/۲۳۷)۔
ازواجِ مطہرات میں سے حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ولیمہ کا تذکرہ دستیاب نہیں ہوا ۔
جنتی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ولیمہ کی کیفیت:
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ولیمہ فرمایا جس میں سادگی کے ساتھ جو میسر آیا کھلا دیا، ولیمہ میں جو کی روٹی، کھجوریں، حریرہ، پنیر، مینڈھے کا گوشت تھا ۔
(مواهب اللدنية مع شرح الزرقاني: ۲/۷، وطبراني كبير، رقم: ۱۹۸٦۲، والسنن الكبري للنسائي: ۱۰۰۱٦، ومسند أحمد: ۳۸/۱٤۳، رقم: ۲۳۰۳۵، وسبل الهدي والرشاد: ۱۱/٤۲، ۵۳، والبداية والنهاية: ۷/۳٦٦، دار المعرفة، وطبقات ابن سعد: ۸/۲۰، دار صادر)
۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.