"سمجھ لینا کہ طلاق ہے" کو طلاق مت سمجھو:
Question
ایک شخص نے اپنی بیوی کو جھگڑے کے وقت یہ الفاظ کہے "تو چلی جا اور سمجھ لینا کہ طلاق ہے" ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ شوہر کا یہ کہنا کہ "تو چلی جا اور سمجھ لینا کہ طلاق ہے" ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
ملاحظہ فرمائیں عالمگیری میں ہے:
امرأة قالت لزوجها مرا طلاق ده، فقال الزوج: داده انگار أوكرده انگار، لا يقع وإن نوى ولو قال لها بعد ما طلبت الطلاق. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۸۰، باب الطلاق بالفاظ الفارسية).
یعنی کسی عورت نے اپنے شوہر سے کہا مجھے طلاق دے دو، تو شوہر نے کہا دی ہوئی سمجھ لے، یا کی ہوئی سمجھ لے، تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی، اگر چہ شوہر نے ان الفاظ سے طلاق کی نیت کی ہو، اور اگر چہ عورت کے طلاق کا مطالبہ کرنے کے بعد یہ الفاظ کہے ہوں ۔
فتاوی قاضيخان میں ہے:
امرأة قالت لزوجها مرا طلاق ده
ولو قال الزوج داده انگار أوكرده انگارلايقع الطلاق وإن نوى كأنه قال بالعربية: احسبي أنك طالق، وإن قال ذلك لا يقع وإن نوي. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/٤۵۷، كتاب الطلاق).
مزید ملاحظہ ہو: (خیر الفتاوی: ۵/۱٤۸، مکتبہ امدادیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.