"مجھے دو بارہ فون کر لے تو سمجھ لیجیے کہ طلاق" کہنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #100Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٦): تفویض، توکیل اور تعلیقِ طلاق کا بیان

Question

ایک شخص نے اپنی زوجہ کو دو طلاق دے کر رجعت کر لی، حال میں دونوں ٹیلی فون پر گفتگو کر رہے تھے کہ جھگڑے کی صورت پیدا ہو گئی، اور غصہ میں مرد نے بیوی سے فون پر یہ کہا: اگر تو مجھے دوبارہ فون کرے گی تو سمجھ لیجیے کہ تیسری طلاق واقع ہو چکی، اس جملہ سے قبل زوج نے یہ بھی کہا تھا کہ میں تجھے طلاق دوں گا، عورت کہتی ہے کہ یہ پہلا جملہ "میں تجھے طلاق دوں گا" سن کر میں نے فون نیچے رکھ دیا، پس آگے جو بھی شوہر نے کہا وہ میں نے نہیں سنا، اس گفتگو کے پندرہ منٹ بعد زوجہ نے شوہر کو فون کیا معافی کی غرض سے، اب چونکہ زوجہ نے تعلیق نہیں سنی تھی تو شرط پائے جانے پر تیسری طلاق ہوئی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ ان الفاظ سے "اگر تو مجھے دوبارہ فون کر لے تو سمجھ لیجیے کہ تیسری طلاق واقع ہو چکی" طلا ق واقع نہیں ہوئی ۔
ملاحظہ فرمائیں عالمگیری میں ہے:

داده انگارأوكرده انگار لا يقع وان نوى ولو قال لها بعد ما طلبت الطلاق. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۸۰).

فتاوی قاضيخان میں ہے:

امرأة قالت لزوجها مرا طلاق ده قال الزوج داده انگارأوكرده انگار لا يقع الطلاق وإن نوي. (فتاوى قاضيخان: ۲/۲۱۰).

نیز مرقوم ہے:

كأنه قال لها بالعربية: احسبي أنك طالق وان قال ذلك لا يقع وان نوى. (قاضيخان: ۲/۲۱۰).

اردو فتاوی میں حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی عثمانی رحمه الله نے امداد الاحکام: ۲/٤۲۳ پر یہ مسئلہ تحریر فرمایا ہے وہاں ملاحظہ فرما لیا جائے ۔
باقی رہا یہ مسئلہ کہ اگر بیوی کو خطاب کیا اور وہ ٹیلی فون سے اٹھ گئی تھی تو اس میں فقیر کی رائے یہ ہے کہ طلاق واقع ہو گی، اس کو اس طرح سمجھ لیجیے جیسے کوئی شخص بیوی کو طلاق کا خط لکھ کر خط اس کے مکان پر پہنچا دے، اور بیوی گھر پر موجود نہ ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی ۔
در مختار میں ہے:

ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكما كتب هذا يقع الطلاق. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۲۹٦، سعيد).

یہ مسئلہ فتاوی دار العلوم دیوبند کی پہلی جلد عزیز الفتاوی میں بھی موجود ہے، لیکن غالباً اس میں ایک لفظ لکھنے سے رہ گیا ہے عنوان ہے، وقوع طلاق کے لیے زوجہ کا سامنے ہونا شرط نہیں ہے: پھر سوال کے الفاظ یہ ہیں زید نے اپنی زوجہ کو جب کہ وہ اس کے سامنے تھی، یہاں غالباً "نہیں" کا لفظ رہ گیا ہے، کیوں کہ جواب میں یہ الفاظ ہیں: سامنے ہونا زوجہ کا وقوع طلاق کے لیے ضروری نہیں الحاصل حاضر ہونا عورت کا بوقت طلاق شرط نہیں ۔ (عزیز الفتاوی: جلد اول: ٤۸۲، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.