"اپنا مطبخ لے کر چلی جاؤ" کہنے سے طلاق کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #61Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٤): کنایاتِ طلاق کا بیان

Question

گزشتہ کل میری بیوی نے مجھ سے کہا تھا کہ بس اب میں تجھ سے بیزار ہو گئی ہوں اور اب میں جانا چاہتی ہوں، تو میں نے اس سے کہا تھا کہ "اپنا مطبخ لے کر چلی جاؤ" بیوی نے اپنی والدہ اور چچا کو فون کیا تاکہ اس کو گھر لے جائے، جب وہ آ گئے تو میں نے بیوی کو روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ جانا چاہتی تھی، تو میں نے اس کے چچا سے کہا کہ اگر آپ اس کو لے جائیں گے تو تین طلاق واقع ہو گی، اس پر انھوں نے سخت برا بھلا کہا اور مجھے پکڑ کر بیوی سے کہا چلی جا، وہ چلی گئی، اب کتنی طلاق واقع ہو گی، شریعتِ مطہرہ میں اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ الفاظ "اپنا مطبخ لے کر چلی جاؤ" کنایات میں سے ہیں، لہذا شوہر کی نیت پر موقوف ہے، اگر شوہر نے نیت کی تو ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ورنہ کچھ نہیں، لیکن پھر شوہر نے صریح الفاظ میں کہا کہ "اگر تم بیوی کو لے جاؤ گے تو تین طلاق واقع ہو گی" یہ تعلیق طلاق ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر شرط پائی گئی تو طلاق واقع ہو جائے گی، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں بیوی چلی گئی تو شرط کے پائے جانے کی وجہ سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں، جس سے وہ عورت مغلظہ ہو گئی اور اب بغیر حلالہ کے زوجِ اول کے لئے حلال نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

وبقية الكنايات إذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بائنة، وهذا مثل قوله اخرجي واذهبي وقومي، لا نها تحتمل الطلاق وغيره فلا بد من النية. (الهداية: ۲/۳۷٤).

در مختار میں ہے:

الكنايات لا تطلق بها قضاء إلا بنية أو دلالة الحال وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب. فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة، والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد

فنحو اخرجي واذهبي وقومي

إن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۲۹٦-۳۰۱).

ہدایہ میں ہے:

وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لا مرأته إن دخلت الدار فأنت طالق. (الهداية: ۲/۳۸۵).

البحر الرائق میں ہے:

وفي الحاوي القدسي: إذا طلق المباينة في العدة فإن كان بصريح الطلاق وقع. (البحر الرائق: ۳/۳۰۷، كوئته).

در مختار میں ہے:

الصريح يلحق الصريح ويلحق البائن بشرط العدة

فإن أبان امرأته ثم طلقها في العدة يقع. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۳۰٦-۳۰۷، مطلب الصريح يلحق الصريح والبائن، سعيد).
وفي الشامي: الطلاق الثلاث يلحق الصريح والبائن، فإذا أبان امرأته ثم طلقها ثلاثاً في العدة وقع. (فتاوى الشامي: ۳/۳۰۷، مطلب الصريح يلحق الصريح والبائن، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.