"تم چلی جاؤ" سے تین طلاق کی نیت کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے بیوی سے کہا "تم چلی جاؤ" بیوی نے کہا تم نے تین طلاقیں دیں، شوہر نے کہا ہاں، تو کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ شوہر کا یوں کہنا "تم چلی جاؤ" یہ الفاظِ کنایہ میں سے ہے، اور الفاظِ کنایہ کا حکم یہ ہے کہ شوہر سے نیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، اگر شوہر نے ایک طلاق کی نیت کی تو ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی، اور اگر تین طلاقوں کی نیت کی تو تین طلاقیں واقع ہو جائے گی ۔ بظاہر سوال کی نوعیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر نے تین طلاق کا اقرار کیا، لہذا اس کی بیوی پر تین طلاقیں پڑ گئیں اور مغلظہ ہو گئی، اب بغیر حلالہ کے زوجِ اول کے لئے حلال نہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:
فالكنايات لا تطلق بها إلا بالنية أو دلالة الحال، فنحو اخرجي واذهبي وقومي
وثلاث إن نواه. (الدر المختار: ۳/۲۹۷، سعيد).
ہدایہ میں ہے:
وبقية الكنايات إذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بائنة، وإن نوى الثلاث كانت ثلاثاً. (الهداية: ۲/۳۷٤).
شرح العنایہ میں ہے:
وأما جواز نية الثلاث فلأن الواقع بها إذا كان بائناً فالبينونة تتصل بالمرأة للحال. (شرح العناية على هامش فتح القدير: ٤/٦٤، دار الفكر).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.