"تم ہمارے گھر سے چلی جاؤ" کہنے کا حکم:
Question
زید نے اپنی بیوی سے کہ دیا "تم ہمارے گھر سے چلی جاؤ" اور وہ منکوحہ زید اپنے خاوند کے کہنے پر ماں باپ کے گھر چلی گئی، اور تقریباً دس گیا رہ سال گزر گئے، اب طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟ اگر واقع ہو گی تو کون سی؟ اس لیے کہ زید نے مذکورہ مدت میں اپنی منکوحہ کو بالکل طلب نہیں کیا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ یہ الفاظ کنایات میں سے ہیں، لہذا اگر زید نے یہ الفاظ کہتے وقت طلاق کی نیت کی تھی تو ایک طلاقِ بائنہ واقع ہو گئی، ورنہ طلاق نہیں ہوئی، بدستور وہ عورت زید کی زوجیت میں ہے ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
ولو قال لها: اذهبي أي طريق شئت، لا يقع بدون النية وإن كان في حال مذاكرة الطلاق. وفي المنتقي: لو قال لها: اذهبي ألف مرة ونوى الطلاق يقع الثلاث. وفي مجموع النوازل: لو قال لها: اذهبي إلى جهنم ونوى الطلاق يقع، كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية ۱/۳۷٦، باب الكنايات).
البحر الرائق میں ہے:
(قوله أخرجي، اذهبي، قومي) لحاجة أو لأني طلقتك، قيد باقتصاره على اذهبي، لأنه لو قال اذهبي فبيعي ثوبك لا يقع وإن نوى. ولو قال لها اذهبي إلى جهنم يقع إن نوى، كذا في الخلاصة. ولو قال لها اذهبي فتزوجي وقال: لم أنو الطلاق لم يقع شيء، لأن معناه تزوجي إن أمكنك وحل لك، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان. (البحر الرائق: ۳/۳۰۲، باب الكنايات في الطلاق، كوئته).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
"میرے یہاں سے نکل جا" اس صورت میں اگر شوہر نے بنیتِ طلاق کلمہ مذکورہ کہا ہے تو اس کی زوجہ پر ایک طلاقِ بائنہ واقع ہو جائے گی ۔ بلا نکاح رجعت اس میں درست نہیں ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۳۹۳، ٤۰۹، ٤۱۳ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۲/۵۵۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.