ٹیلی فون پر طلاق دینے سے وقوعِ طلاق کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #11Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱): طلاق واقع ہونے نہ ہونے کا بیان

Question

ایک شخص نے ٹیلی فون پر بیوی سے خطاب کرتے ہوے طلاق دی، بیوی کا بیان ہے کہ الفاظِ طلاق بولنے سے پہلے اس نے فون چھوڑ دیا تھا، اور طلاق نہیں سنی، تو کیا طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ طلاق واقع ہو گئی، اس لیے کہ وقوعِ طلاق کے لیے بیوی کا سامنے ہونا اور الفاظِ طلاق سننا ضروری نہیں ہے، اس مسئلہ کو اس طرح سمجھ لیجیے کہ کوئی شخص بیوی کو طلاق کا خط لکھے اور خط اس کے مکان پر پہونچ جائے، اور وہ گھر پر موجود نہ ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی شامی میں ہے:

ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فانت طالق فكما كتب هذا يقع الطلاق. (فتاوى الشامي: ۳/۲٤٦، مطلب في الطلاق بالكتابة، سعيد).

عزیز الفتاوی میں ہے:
سامنے ہونا زوجہ کا وقوع طلاق کے لیے شرط نہیں ہے الحاصل حاضر ہونا عورت کا بوقتِ طلاق شرط نہیں ہے ۔ (عزیز الفتاوی: جلد اول: ٤۸۸) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
طلاق واقع ہونے کے لیے عورت کا سامنے ہونا یا طلاق کے الفاظ سنانا یا عورت کا نام لے کر طلاق دینا شرط نہیں ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۸/۲٦٦، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.