آئندہ طلاق دینے کے ارادہ سے وقوعِ طلاق کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #3Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱): طلاق واقع ہونے نہ ہونے کا بیان

Question

ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ اس طرح کہا تھا کہ (I want to give you talaq) یعنی میں تجھے طلاق دینے کا ارادہ رکھتا ہوں، جب ان سے پوچھا کہ آپ نے کیا کہا تھا تو شوہر نے کہا مجھے نہیں معلوم میں نے کیا کہا تھا، شریعت کی نگاہ میں کیا حکم ہوگا؟ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

Answer

طلاق کے باب میں خالص استقبال کے الفاظ سے طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا صورتِ مسئولہ میں بھی ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی، نیز جب شوہر کو یاد نہیں کہ اس نے کیا کہا تھا، اور بیوی کہتی ہے کہ اس نے صرف ارادۂ طلاق کا اظہار کیا تھا، تو اس صورت میں بھی عورت کی بات مانی جائے گی اور طلاق واقع نہیں ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:

صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال ابن الهمام. (تنقيح الفتاوى الحامدية: ۱/۳۸، كتاب الطلاق، دار الإشاعة العربية).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

قالت لزوجها: من با تو نمي باشم، فقال الزوج: مباش، فقالت: طلاق بدست تو است مرا طلاق كن، فقال الزوج: طلاق مي كنم طلاق مي كنم وكرر ثلاثاً، طلقت ثلاثاً بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقاً بالتشكيك، وفي المحيط: لو قال بالعربية: أطلق، لا يكون طلاقاً إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقاً. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۸٤، باب الطلاق بألفاظ الفارسية).

مزید ملاحظہ فرمائیں: (احسن الفتاوی: ۵/۱٤۸ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۲/۲٤۷، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.