وعدۂ طلاق کو معلق کرنے سے طلاق کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #363Urdu
Vol. 9باب… )۸( نکاح و طلاق سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک عورت نے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا، شوہر نے کہا تو میرے ساتھ صحبت پر تیار ہو گی تو میں طلاق دوں گا، بیوی نے شرط پوری کر دی، لیکن بعد میں دونوں میں صلح ہو گئی، تو کیا شرط پوری کرنے پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ شرط پوری کرنے پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ شوہر نے طلاق دینے کا وعدہ کیا تھا، اور وعدۂ طلاق کو معلق کرنے کے بعد شرط پوری ہونے پر طلاق واقع نہیں ہوتی، شوہر کے الفاظ طلاق دوں گا یہ مستقبل کے الفاظ ہیں اِن الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال ابن الهمام. (تنقيح الفتاوى الحامدية: ۱/۳۸).
وفي الفتاوى الهندية: بخلاف قوله: كنم، لأنه استقبال فلم يكن تحقيقاً بالتشكيك في المحيط لو قال بالعربية: أطلق لا يكون طلاقاً إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقاً (الفتاوى الهندية: ۱/۳۸٤).
وفي المحيط: بخلاف قوله: كنم، لأنه تمحض للاستقبال وهو وعد، وبالعربية قوله: أطلق، لا يكون طلاقاً في أنه دائر بين الحال والاستقبال فلم يكن تحقيقاً مع الشك. (المحيط البرهاني: ٤/٤۳، الفصل السابع والعشرون في المتفرقات، ط: رشيديه).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.