"خدا کی قسم اس عورت کو کبھی نہیں رکھوں گا" کہنے کا حکم:
Question
ایک آدمی نے اپنی منکوحہ کو مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا اور یہ الفاظ کہے "مجھ کو خدا کی قسم، اس عورت کو کبھی نہیں رکھوں گا" چنانچہ چار سال کا عرصہ ہو گیا کہ نان و نفقہ نہیں دیا، تو کیا اس کے ایسے صاف الفاظ ہوتے ہوے بھی نیتِ طلاق کی ضرورت ہو گی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اس شخص کی زوجہ پر طلاق واقع نہیں ہوئی، اور نیت کی ضرو رت نہیں رہی، وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صیغہ استقبال کے ساتھ صریح الفاظِ طلاق بولے تو اس سے طلاق نہیں ہوتی، مثلاً یوں کہے "خدا کی قسم میں تجھے طلاق دوں گا" تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہ ہو گی ۔ لہذا مذکورہ الفاظ سے بدرجۂ اولیٰ طلاق واقع نہ ہو گی ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
بخلاف قوله (طلاق) كنم، لأنه استقبال فلم يكن تحقيقاً بالتشكيك، وفي المحيط: لو قال بالعربية "أطلق" لا يكون طلاقاً إلا إذا غلب استعماله للحال، فيكون طلاقاً. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۸٤).
در مختار میں ہے:
بخلاف قوله "طلقي نفسك" فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي، لم يقع لأنه وعد. جوهرة. وفي الشامي: عبارة الجوهرة: وإن قال: طلقي نفسك، فقالت: أنا أطلق لم يقع قياساً واستحساناً. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۳۱۹، باب تفويض الطلاق، سعيد).
تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال ابن الهمام. (تنقيح الفتاوى الحامدية: ۱/۳۸).
و ینظر: البحر الرائق: ۳/۳۱٤، کوئتہ ۔ و فتح القدیر: ٤/۷، دار الفکر ۔ و فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/٤۷، و احسن الفتاوی: ۵/۱٤۸ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۲/۲٤۷، مبوب و مرتب ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.