"تجھے رکھوں تو ماں بہن کو رکھوں" کہنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #113Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۸): ظہار کا بیان

Question

اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہاـ "تجھے رکھوں تو اپنی ماں بہن کو رکھوں" ان الفاظ سے ظہار یا طلاق ہو گی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ بغیر حرفِ تشبیہ کے یہ کہنا "تجھے رکھوں تو اپنی ماں بہن کو رکھوں" ان الفاظ سے ظہار نہیں ہوگا اور نہ طلاق واقع ہو گی، بلکہ کلام لغو ہو جائے گا ۔ البتہ اس قسم کے الفاظ کہنا مکروہ ہے ۔
قاضی مجاہد الاسلام تحریر فرماتے ہیں:
حرفِ تشبیہ یعنی لفظ مثل، طرح، جیسے وغیرہ کا صراحۃً ذکر، اور یہ رکنِ اعظم ہے جس کے بغیر کلام لغو قرار پائے گا، مثلاً کوئی کہے "تو میری ماں ہے" یا "میری ماںکی پشت ہے" تو کلام لغو ہوگا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ص ۱٦۲،) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: ایک شوہر نے اپنی بیوی کو سخت غصہ کی حالت میں جس میں اپنا سر خود کئی جگہ سے پھوڑ لیا کہا: اگر میں تجھ سے صحبت کروں، اپنی ماں سے صحبت کروں" ۔ کیا یہ الفاظ یمین ہیں، کفارہ دینا ہوگا؟
الجواب:
لو قال: إن وطئتك وطئت أمي، فلا شيء عليه، كذا في غاية السروجي،
فتاوی عالمگیریہ، عبارتِ منقولہ سے معلوم ہوا کہ الفاظ مذکورہ کہنے سے شوہر پر کوئی کفارہ لازم نہیں، بیوی پر طلاق بھی نہیں ہوئی اس کا یہ قول لغو ہے ۔
فلو قال: إن فعلت كذا فأنت أمي، وفعله، فهو باطل إن نوى التحريم، سكب الأنهر. (
فتاوی محمودیہ: ۱۳/۳۲٦، فاروقیہ) ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:

لو قال: أنت أمي، لا يكون مظاهراً، وينبغي أن يكون مكروهاً، ومثله أن يقول يا ابنتي ويا أختي. (الفتاوى الهندية: ۱/۵۰٦).
وللاستزادة انظر: (
الدر المختار مع رد المحتار: ۳/٤۷۰، سعید، و بدائع الصنائع: ۳/۱۷۰، سعید، و المحیط البرہانی: ۳/٦۱۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.