"تو میری بہن کے برابر ہے" کہنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #70Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٤): کنایاتِ طلاق کا بیان

Question

ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا "تو میری بہن کے برابر ہے" کیا ان الفاظ سے طلاق پڑی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ الفاظ کنایات میں سے ہیں اگر طلاق کی نیت سے یہ الفاظ کہے تو ایک طلاق بائن واقع ہو گئی، اور بلا نیت طلاق واقع نہیں ہوئی، لیکن آئندہ اس قسم کے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ فرمائیں شامی میں ہے:

إن نوى بأنت على مثل أمي أو أمي أو كأمي، وكذا لو حذف "علي" خانية، براً أو ظهاراً أو طلاقاً صحت نيته ووقع ما نواه لأنه كناية. وفي الشامية: قوله لأنه كناية، أي من كنايات الظهار والطلاق، قال في البحر: وإذا نوى به الطلاق كان بائناً كلفظ الحرام. (فتاوى الشامي: ۳/۴۷۰، باب الظهار، سعيد. وكذا في البحر الرائق: ۴/۹۸، كوئته).

در مختار میں ہے:

ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي. وفي الشامية: والذي في الفتح: وفي "أنت أمي"

وينبغي أن يكون مكروهاً فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه. وفيه حديث رواه أبو داود

الخ. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۴۷۰، باب الظهار، سعيد).

مزید ملاحظہ ہو: (فتح القدیر: ۴/۲۵۲، دار الفکر ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۳/۳۲۲ ۔ و فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۳۸۴ ۔ و کفایت المفتی: ۶/۴۴۰ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.