"میری بیوی نہیں، گھر سے نکل جا" ان الفاظ سے طلاق کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #48Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٤): کنایاتِ طلاق کا بیان

Question

اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا "تو میری بیوی نہیں" اور ایک طلاق کی نیت کی، اور کہا "گھر سے نکل جا" اور اس سے بھی ایک طلاق کی نیت کی تو اب کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

Answer

بصورتِ مسئولہ ایک ہی طلاقِ بائنہ واقع ہوئی، اس لیے کہ طلاقِ بائنہ کے بعد بائنہ نہیں پڑتی ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

ولو قال حرمت نفسي عليك فاستتري ونوى بهما طلاقاً فهي واحدة بائنة، لأنه لا يقع على بائن بائن

والطلاق البائن يلحق الطلاق الصريح

ولا يلحق البائن البائن بأن قال لها: أنت بائن، ثم قال لها: أنت بائن، لا يقع إلا طلقة واحدة بائنة. (الفتاوى الهندية ۱/۳۷۷، الفصل الخامس في الكنايات).

در مختار مع الشامی میں ہے:

البائن لا يلحق البائن. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۳۰۸، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.