"نکل جا اپنی ماں کے گھر چلی جا" کہنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #54Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٤): کنایاتِ طلاق کا بیان

Question

اپنی عورت کے ساتھ نزاع کے وقت مرد کی زبان سے یہ الفاظ "نکل جا اپنی ماں کے گھر چلی جا" نکلے، ان الفاظ کے کہنے کے بعد جب اس کو نیت کا خیال آیا تو شک میں پڑ گیا کہ نیت کی تھی یا نہیں؟ اب نیت کے مشکوک ہونے کی صورت میں طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ الفاظ صریح نہیں ہیں، بلکہ کنایہ ہیں، نیت کے محتاج ہیں، اور نیت میں شک ہے اس وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ فقہ کا قاعدہ ہے "
اليقين لا يزول بالشك"
محض شک کی وجہ سے طلاق کا حکم نہ ہوگا ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا، كما لوشك أطلق أم لا. وفي حاشية الطحطاوي على الدر: قوله كما لوشك: لأن النكاح ثابت يقيناً والقاطع له مشكوك والشك لا يزيل اليقين وقدم الشارح آخر نواقض الوضوء أنه لوشك في نجاسة ماء، أو ثوب، أو طلاق، أو عتق لم يعتبر. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۱۲۷، باب الصريح، كوئته).

امداد الاحکام میں ہے:

قال في الدر: علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا، كما لوشك أطلق أم لا
۔
(۲/۷٤۵).
چونکہ صورتِ مسئولہ میں لفظ صریح نہیں، بلکہ کنایہ محتاجِ نیت ہے، اور نیت میں شک ہے اس لیے طلاق واقع نہ ہو گی ۔ (امداد الاحکام ۲/٤۷۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.