طلاق جاری کر دوں گا کہنے سے طلاق کا حکم:
Question
ایک شخص نے اپنی بیوی سے فون پر میسیج میں کہا: ہمارے نکاح کے گواہوں کے سامنے طلاق جاری کر دوں گا، کسی کا نام نہیں لیا، پھر اس نے بتایا کہ یہ اس وجہ سے کہا تا کہ بیوی ڈر جائے، کیا اس لفظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
شوہر کے الفاظ" طلاق جاری کر دوں گا "مستقبل کے لیے ہیں، لہٰذا فی الحال کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، صیغہ استقبال سے طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
قالت لزوجها من باتو نمي باشم فقال الزوج: مباش، فقالت: طلاق بدست تو است مرا طلاق كن، فقال الزوج: طلاق مي كنم، طلاق مي كنم وكرر ثلاثاً طلقت ثلاثاً بخلاف قوله: كنم، لأنه استقبال فلم يكن تحقيقاً بالتشكيك، في المحيط: لو قال بالعربية: أطلق، لا يكون طلاقاً إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقاً. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۸٤).
تنقيح الفتاوى الحامدية
میں مذکور ہے:
صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام. (۱/۳۸، ط: دار الإشاعة العربية).
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ٤/٤٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.