صیغۂ حال سے وقوعِ طلاق کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #4Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱): طلاق واقع ہونے نہ ہونے کا بیان

Question

ایک شخص نے جھگڑے میں اپنی بیوی سے کہا میں تم کو طلاق دیتا ہوں، تین بار کہا، طلاق دی، نہیں کہا، اس سے طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر اس میں مستقبل کی دھمکی کی نیت کرے تو یہ قابل قبول ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ صیغۂ حال "یعنی طلاق دیتا ہوں" سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، البتہ مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله نے تحریر فرمایا ہے کہ لفظ دیتا ہوں اس نیت سے کہا تھا کہ میں نے طلاق دی تو اس کی بیوی پر طلاق مغلظ پڑ گئی، (یعنی جب اس کے ساتھ تین کا لفظ ہو) لیکن اگر وہ کہے کہ طلاق دیتا ہوں سے مراد یہ تھی کہ طلاق دینے کا ارادہ ہے تو طلاق نہ ہو گی ۔ (کفایت المفتی: ٦/۷۹، ۸۰) ۔
فتاوی الشامی میں ہے:

وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر. (فتاوى الشامي: ۳/۲٤۸، سعيد، والبحر الرائق: ۳/۲۵۲، كوئته).

فتح القدیر میں ہے:

ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال. (فتح القدير: ٤/۷، دار الفكر).

فتاوی عالمگیری میں ہے:

قالت: لزوجها: من با تو نمي باشم، فقال الزوج: مباش، فقالت: طلاق بدست تو است، مرا طلاق كن، فقال الزوج: طلاق مي كنم، طلاق مي كنم، وكرر ثلاثاً، طلقت ثلاثاً، بخلاف كنم، لأنه استقبال. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۸٤).

احسن الفتاوی میں ہے:
لفظ طلاق دیتا ہوں حال کے لیے موضوع ہے لہذا اس سے طلاق واقع ہو گئی اگر چہ یہ جملہ مستقبل قریب کے لیے بھی گاہے گاہے استعمال ہوتا ہے الخ ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۱۵۳) ۔
مزید ملاحظہ ہو:
(تنقيح الفتاوى الحامدية: ۱/۳۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.