لفظ "طاق" سے وقوع طلاق کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #9Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱): طلاق واقع ہونے نہ ہونے کا بیان

Question

اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا تم کو طاق ہے تو طلاق ہوئی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ لفظ "طاق" کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
ملاحظہ فتاوی ہندیہ میں ہے:

وان حذف اللام فقط فقال: أنت طاق لا يقع وان نوي. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۵۷، باب في إيقاع الطلاق. وكذا في البحر الرائق: ۳/۲۵۵، كتاب الطلاق، كوئته).

احسن الفتاوی میں ہے: لفظ "تاک" سے کوئی طلاق نہیں ہوئی ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۱۹۷ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۲/۳۲۸، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.