لفظ "طاق" سے وقوع طلاق کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا تم کو طاق ہے تو طلاق ہوئی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ لفظ "طاق" کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
ملاحظہ فتاوی ہندیہ میں ہے:
وان حذف اللام فقط فقال: أنت طاق لا يقع وان نوي. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۵۷، باب في إيقاع الطلاق. وكذا في البحر الرائق: ۳/۲۵۵، كتاب الطلاق، كوئته).
احسن الفتاوی میں ہے: لفظ "تاک" سے کوئی طلاق نہیں ہوئی ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۱۹۷ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۲/۳۲۸، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.