کسی مصلحت سے بلا نیت طلاق کہ دینے سے وقوع طلاق کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #2Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱): طلاق واقع ہونے نہ ہونے کا بیان

Question

اگر کوئی شخص کسی مصلحت کی وجہ سے بغیر نیتِ طلاق کے اپنی بیوی کو طلاق کہ دے یا لکھ دے، لیکن مقصود طلاق دینا نہ ہو بلکہ کوئی خاص مصلحت مقصود ہو تو طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟

Answer

طلاق کے صریح لفظ کے ساتھ زبانی کہنے یا لکھ دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، پھر نیت و ارادہ کی ضرورت نہیں ہے، چاہے کسی مصلحت کے پیش نظر کہا ہو یا لکھا ہو ۔
ملاحظہ فرمائیں ترمذی شریف میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ثلاث جدهن جد وهزلهن جد، النكاح، والطلاق، والرجعة، هذا حديث حسن غريب. (رواه الترمذي: ۱/۲۲۵، باب ما جاء في الجد والهزل في الطلاق).

ملاحظہ فرمائیں فتاوی شامی میں ہے:

صريحه ما لم يستعمل إلا فيه أي غالباً كما يفيد كلام البحر، وعرفه في التحرير بما يثبت حكمه الشرعي بلا نية، وأراد بما اللفظ أوما يقوم مقامه من الكتابة المستبينة أو الإشارة المفهومة

لأن ركن الطلاق اللفظ أو ما يقوم مقامه مما ذكر، قوله ولو بالفارسية فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية. (فتاوى الشامي: ۳/۲٤۷، باب الصريح، سعيد).

مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
طلاق صریح کا حکم یہ ہے کہ نیت کے بغیر بھی اس سے طلاق واقع ہو جائے گی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ص۱۳۸، دفعہ ۱۵، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، زیر نگرانی حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رحمه الله) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۳۳٤، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.