"جاؤ تم آزاد ہو، آزاد کرتا ہوں" کہنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #59Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٤): کنایاتِ طلاق کا بیان

Question

جناب مفتی صاحب! مؤدبانہ گزارش ہے کہ ایک مسئلہ لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئی ہوں اور آپ کی بزرگانہ رائے کی طلب گار ہوں ۔ گھریلو جھگڑے میں میرے شوہر نے مجھ سے کہا "تمہاری کیا اوقات ہے، طلاق دینے میں ایک منٹ لگتا ہے، تم آزاد ہونا چاہتی ہو، جاؤ تم آزاد ہو، آزاد کرتا ہوں" اس کے جواب میں میں نے کہا: ٹھیک ہے، مجھے ایک منٹ لگتا ہے تو لگاؤ، مجھے بھی تمہارے ساتھ نہیں رہنا، مجھے بھی طلاق چاہیے، اب ان حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوے کیا میری طلاق ہو چکی ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر شوہر نے واقعی سوال میں درج شدہ الفاظ کہے ہوں تو اس کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی، ان الفاظ سے طلاقِ بائن کا واقع ہونا دو وجہ سے ہے، ایک تو اس لیے کہ یہ الفاظ عرف میں طلاق کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، علامہ شامی رحمه الله نے "
أنت على حرام"
یعنی تو مجھ پر حرام ہے، کے متعلق لکھا ہے کہ لوگوں کے عرف کی وجہ سے اس سے طلاقِ بائن پڑتی ہے ۔
مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمه الله تحریر فرماتے ہیں: تیسرا جملہ "میں نے آزاد کر دیا" طلاقِ صریح بائن ہے، لہذا اس سے طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی ۔ (احسن الفتاوی۵/۲۰۲) ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ پہلے سے طلاق کی بات چل رہی تھی یعنی "تمہاری کیا اوقات ہے، طلاق دینے میں ایک منٹ لگتا ہے، تم آزاد ہونا چاہتی ہو، جاؤ تم آزاد ہو، آزاد کرتا ہوں تجھے" لہذا بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی ۔ غالباً طلاق کے بعد عدت تو گزر چکی ہو گی، کیوں کہ جس عورت کو ماہواری آتی ہو، اس کی عدت تین ماہواریوں کا گزرنا ہے ۔ اگر عدت گزر گئی ہو تو عورت کسی اور جگہ نکاح کر سکتی ہے، اور سابقہ شوہر سے بھی نکاح ہو سکتا ہے، کسی قسم کے حلالہ کے ضرورت نہیں ۔ اگر شوہر ان الفاظ سے انکاری ہو اور بیوی کے پاس شرعی گواہ نہ ہو تو شوہر پر قسم آئے گی، اگر اس نے نہ کہنے کی قسم اٹھائی تو شوہر کی بات مانی جائے گی، لیکن بیوی کو جب ان الفاظ کے کہنے کا یقین ہے تو وہ شوہر کو اپنے پاس بغیر نکاحِ جدید کے نہ چھوڑے ۔ اگر سابقہ شوہر سے دو بارہ نکاح ہو جائے تو آئندہ اس کو صرف دو طلاق دینے کا حق حاصل ہوگا، اگر کسی وقت دو طلاقیں دے دے تو بیوی مغلظہ ہو جائے گی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.