"نکاح سالم نہیں رہا" کہنے کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص اپنی عورت کے بارے میں کسی دوسرے سے مخاطب ہو کر کہے: میرا اور اس عورت کا نکاح سالم نہیں رہا، تو کیا دوبارہ نکاح کی ضرورت ہے؟
Answer
یہ کنایات میں سے ہے اگر یہ نیت کی کہ نکاح باقی نہیں رہا بلکہ ٹوٹ گیا تو طلاق بائن واقع ہو گئی، اور اگر یہ نیت کی ہے کہ نکاح میں عیب اور خرابی پیدا ہوئی اگر چہ نکاح قائم ہے تو طلاق نہیں ہو گی ۔
فتاوی سراجیہ میں مرقوم ہے کہ ان تین کنایات
"اعتدي، اختاري، أمرك بيدك"
کے علاوہ جو کنایات ہیں ان میں نیت کی ضرورت ہے ۔ نکاح سالم نہیں رہایہ بھی کنایات میں سے ہے ۔ ہاں بعض کنایات میں مذآ کرہ طلاق کے وقت بغیر نیت کے طلاق پڑ جاتی ہے مثلاً
"أنت خلية، برية، بتة، بائن"
ان میں سے ہیں،
وفيما عداها من ألفاظ الكنايات "أي ما عدا الثلاثة" يصدق، ولو قال: في مذاكرة الطلاق أحد هذه الألفاظ الثلاثة أوقال: أنت خلية أو برية أو بتة أو بائن أو حرام لم يصدق. (فتاوى سراجية: كتاب الطلاق، باب المتفرقات،).
لیکن صاحبِ بحر علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله اور علامہ شامی رحمه الله کے نزدیک فی الحال نکاح کی نفی کرنے سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے، کما مر آنفاً ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.