"نکاح کا رشتہ ٹوٹ گیا " کہنے کا حکم:
Question
شوہر نے یوں کہا کہ "میرے اور بیوی کے درمیان نکاح کا رشتہ اس قدر ٹوٹ گیا ہے کہ اب سنبھالنے کا امکان باقی نہیں ہے ۔ یہ جملہ پانچ مرتبہ کہا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ کورٹ میں بھی تاکید کے ساتھ اس کی گواہی دی، لیکن شوہر یوں کہتا ہے کہ کبھی طلاق دینے کی نیت نہیں کی ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ شوہر کے یہ الفاظ "نکاح کا رشتہ ٹوٹ گیا " کنایاتِ طلاق میں سے ہیں، لہذا بغیر نیت کے طلاق واقع نہیں ہوئی، ہاں اگر طلاق کی نیت کی تھی تو ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی ۔
ملاحظہ فرمائیں عالمگیری میں ہے:
ولو قال فسخت النكاح ونوى الطلاق يقع، وعن أبي حنيفة رحمه الله تعالى: إن نوى ثلاثاً فثلاث كذا في معراج الدراية. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۷۵، الفصل الخامس في الكنايات)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"ہمارے ساتھ نکاح ٹوٹ گیا " یہ صریح لفظ نہیں، بلکہ کنایہ ہے، شوہر سے دریافت کیا جائے، وہ اگر یہ کہے کہ ہاں طلاق کی نیت سے کہا ہے، تو طلاق واقع ہو گی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۵۵۹، مبوب و مرتب ۔ و احسن الفتاوی: ۵/۱۹۳) ۔
لیکن صاحبِ بحر علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله اور علامہ شامی رحمه الله کے قول کے مطابق طلاق رجعی واقع ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں البحر الرائق میں ہے:
والأصل أن نفي النكاح أصلاً لا يكون طلاقاً، بل جحوداً ونفي النكاح في الحال يكون طلاقاً إذا نوى وما عداه فالصحيح أنه على هذا الخلاف قيد بالنية لأنه لا يقع بدون النية اتفاقاً لكونه من الكنايات ولا يخفي أن دلالة الحال تقوم مقامها حيث لم يصلح للرد والشتم ويصلح للجواب فقط وقدمنا أن الصالح للجواب فقط ثلاثة ألفاظ ليس هذا منها فلذا اشترط النية للإشارة إلى أن دلالة الحال هنا لا تكفي وأشار بقوله تطلق إلى أن الواقع بهذه الكناية رجعي. (البحر الرائق: ۳/۳۰٦، باب الكنايات، كوئته. وكذا في فتاوى الشامي: ۳/۲۸۳، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.