طلاقن کہنے سے طلاق کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #69Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٤): کنایاتِ طلاق کا بیان

Question

ایک شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ جھگڑا چل رہا تھا باتوں میں اس نے بیوی کو طلاقن کہا، کیا اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ طلاقن کہنے سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی، ہاں اگر اس نے سب شتم کرتے ہوے کہا تو دیانۃً اس کی بات مانی جائے گی اور طلاق واقع نہ ہو گی ۔
ملاحظہ ہو امداد الاحکام میں ہے:
البتہ طلاقن اور مطلقہ کہہ کر پکارنے سے زوجہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے (امداد الاحکام: ۲/۴۱۸) ۔

وفي الشامية: يا طالق أو يا مطلقة بالتشديد ولو قال أردت الشتم لم يصدق قضاء ودين، خلاصة، ولو كان لها زوج طلقها قبل فقال أردت ذلك الطلاق صدق ديانة باتفاق الروايات، وقضاء في رواية أبي سليمان وهو حسن كما في الفتح وهو الصحيح كما في الخانية ولو لم يكن لها زوج لا يصدق، وكذا لو كان لها زوج قد مات. (فتاوى الشامي: ۳/۲۵۱، وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۲۵۵، وخلاصة الفتاوى: ۲/۸۰).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر پہلے شوہر سے طلاق مل چکی ہے اسی لیے اس شخص نے طلاقن کہا ہے تو شرعاً اس کا قول معتبر ہوگا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۳۷۰) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ سب و شتم کی نیت سے کہا اور بیوی کو کوئی اعتراض نہیں ہے تو مفتی طلاق نہ ہونے کا فتویٰ دے سکتا ہے، کیوں کہ عرف میں یہ سب و شتم میں استعمال ہوتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.