"تقریر سنوں تو میری بیوی کو طلاق" کہنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے زید کو بتلایا کہ فلاں مولوی صاحب کی تقریر مت سنو اس کی تقریر میں زہر بھرا ہوا ہے، زید نے کہا: اگر میں فلاں مولوی صاحب کی تقریر سنوں تو میری بیوی پر تین طلاق، پھر زید نے ٹیپ ریکارڈ سے بیان سنا، تو طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر ٹیپ ریکارڈ سے بیان سنا تو زید کی بیوی پر طلاق نہیں پڑے گی اس لیے کہ اس نے تقریر و بیان کا عکس سنا بعینہٖ بیان نہیں سنا جیسے ٹیپ ریکارڈ سے آیتِ سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت لازم نہیں ہوتا یا آوازِ بازگشت سے سجدۂ تلاوت لازم نہیں ہوتا، مسئلہ طلاق بھی اسی طرح ہے ۔
ملاحظہ ہو آلاتِ جدیدہ کے شرعی احکام میں ہے:
ٹیپ ریکارڈ کے ذریعہ جو آیتِ سجدہ سنی جائے اس کا وہی حکم ہے جو گراموفون کے ریکارڈ کا کہ اس کے سننے سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوتا، کیوں کہ سجدۂ تلاوت کے وجود کے لیے تلاوتِ صحیحہ شرط ہے اور آلہ بے جان بے شعور سے تلاوت مقصود نہیں ۔ (آلاتِ جدیدہ کے شرعی احکام، ص ۲۲۳) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ٤۸٦
، و نظام الفتاوی: ۱/۷۲، و فتاوی محمودیہ: ۷/٤۷۲، و احسن الفتاوی: ٤/٦۵، و فتاوی دار العلوم زکریا: ۲/٤۷۸) ۔
نوٹ: عام طور پر کتابوں میں مرقوم ہوتا ہے کہ تعلیق الطلاق میں یمین پوشیدہ ہے سو وہ اس طور پر کہ جس طرح یمین توڑنے سے اس پر کفارہ مرتب ہوتا ہے، اسی طرح تعلیق کے بعد طلاق مرتب ہوتی ہے، ورنہ تعلیق طلاق میں حقیقی و اصطلاحی یمین نہیں ہے، لہذا طلاق کا مدار حقیقت پر ہوگا اور تقریر کا عکس سننے سے طلاق واقع نہ ہو گی، برخلاف یمین کے کہ کتاب الایمان میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ تقریر کا عکس سننے سے حانث ہو جائے گا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.