"جب بھی میں شادی کروں تو میری بیوی کو طلاق" کہنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #102Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٦): تفویض، توکیل اور تعلیقِ طلاق کا بیان

Question

اگر کسی نے کہا کہ میں جب بھی شادی کروں تو میری بیوی کو طلاق، اب اس شخص کی شادی کا کیا طریقہ ہے، جب کہ وہ شادی کا شوق بھی رکھتا ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ ایسا شخص شافعی قاضی کے پاس اپنا مقدمہ لے جائے، اور چونکہ شوافع کے نزدیک جب وہ شخص یہ جملہ کہے گا، تو لغو ہو جائے گا، کیوں کہ اس کے وقوع کا کوئی محل نہیں ہے، پھر قاضی تعلیق ختم کر دے گا، اب وہ شخص شادی کرے گا تو طلاق واقع نہیں ہو گی، ورنہ مذہب احناف کے مطابق جب بھی وہ شادی کرے گا اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی ۔
دوسرا حیلہ یہ ہے کہ کوئی فضولی اس شخص کا نکاح کرا دے اور وہ شخص اس نکاح کو بالفعل قبول کرے ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی فرماتے ہیں:

قال في البحر: وللحنفي أن يرفع الأمر إلى شافعي يفسخ اليمين المضافة، فلو قال: إن تزوجت فلانة فهي طالق ثلاثاً فتزوجها فخاصمته إلى قاض شافعي وادعت الطلاق فحكم بأنها امرأته وان الطلاق ليس بشيء حل له ذلك. (فتاوى الشامي: ۳/۳٤٦، مطلب في فسخ اليمين المضافة إلى الملك، سعيد).
وفي الدر المختار: كل امرأة تدخل في نكاحي أو تصير حلالاً لي فكذا فأجاز فضولي بالفعل لا يحنث. (الدر المختار: ۳/۸٤٦، باب اليمين في الضرب

، سعيد).
وفي الشامي: وينبغي أن يجيء إلى عالم ويقول له ما حلف واحتياجه إلى نكاح الفضولي فيزوجه العالم امرأة ويجيز بالفعل فلا يحنث. (فتاوى الشامي: ۳/۳٤۸، باب التعليق، سعيد).
فتاوی سراجیہ میں ہے:

القاضي إذا فوض إلى شافعي ليقضي ببطلان اليمين بالطلاق جاز وعليه الفتوي. (الفتاوى السراجية: صـ ۱۱۹، كتاب القضاء، باب المتفرقات).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.