تعلیق طلاق میں شافعی قاضی سے فیصلہ کرانے کا حکم:
Question
ایک شخص نے یہ کہا کہ اگر میں کسی بھی عورت سے نکاح کروں تو اس کو طلاق ہے ۔ حنفیہ کے نزدیک جس لڑکی سے بھی نکاح کرے گا، تو اس کو طلاق واقع ہو جائے گی ۔
یا ایک شخص نے ایک عورت کو شہوت کے ساتھ مس کیا، اور پھر لا علمی میں اس عورت کی لڑکی سے نکاح کیا، اور اس لڑکی سے اولاد ہوئی ۔ یا اولاد نہیں ہوئی لیکن اس سے محبت ہے، اب اگر کوئی حنفی مفتی یا قاضی اس جوڑے کوکسی شافعی کے پاس بھیج دے، اور شافعی قاضی یا جمعیت کے شافعی علماء پہلی صورت میں نکاح کو جائز قرار دے اور طلاق کو کالعدم قرار دے، اور دوسری صورت میں اس لڑکی کے نکاح کو درست قرار دے تو حنفی کے لیے اس فیصلہ کو تسلیم کرنا جائز یا نہیں؟
Answer
بعض کتبِ فقہیہ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ شافعی قاضی کے فیصلہ کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور اس مسئلہ کے دیگر بہت سارے نظائر دستیاب ہوے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حنفی شافعی قاضی کا فیصلہ تسلیم کر لے تو نافذ ہو جائے گا، اسی طرح شافعی حنفی قاضی کا فیصلہ تسلیم کر لے تو وہ بھی نافذ ہو جائے گا، نیز بوقتِ ضرورت بعض صورتوں میں حنفی قاضی شافعی قاضی کی طرف مقدمہ بھیج سکتا ہے ۔
کتب فقہ کی عبارات حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) فتاوی سراجیہ میں ہے:
القاضي إذا فوض إلى شافعي ليقضي ببطلان اليمين بالطلاق جاز وعليه الفتوي. (الفتاوى السراجية: صـ ۱۱۹، كتاب القضاء، باب المتفرقات).
یعنی کسی اجنبی عورت سے کہا: "إن تزوجتک فأنت طالق" پھر نکاح ہوا اور حنفی قاضی نے شافعی قاضی کی طرف مسئلہ بھیج دیا اور اس نے تعلیق کے باطل ہونے کا فیصلہ کیا تو درست ہے ۔
البحر الرائق میں ہے:
(ألف) وللحنفي أن يرفع الأمر إلى شافعي يفسخ اليمين المضافة فلو قال: "إن تزوجت فلانة فهي طالق ثلثاً" فتزوجها فخاصمته إلى قاضٍ شافعي وادعت الطلاق، فحكم بأنها امرأته وأن الطلاق ليس بشيء، حل له ذلك، ولو وطئها الزوج بعد النكاح قبل الفسخ ثم فسخ يكون الوطء حلالاً إذا فسخ وإذا فسخ بعد التزوج لا يحتاج إلى تجديد العقد.
(باء) ولو قال: كل امرأة أتزوجها فهي طالق فتزوج امرأة وفسخ اليمين ثم تزوج امرأة أخري لا يحتاج إلى الفسخ في كل امرأة كذا ذكر في الخلاصة، وفي الظهيرية: أنه قول محمد رحمه الله. وبقوله يفتي. وكذلك في قوله: "كل عبد اشتريته".
(ج) وإذا عقد أيماناً على امرأة واحدة فإذا قضي بصحة النكاح بعد، ارتفعت الأيمان كلها.
وإذا عقد على امرأة يميناً على حدة لا شك أنه إذا فسخ على امرأة لا ينفسخ الأخرى.
(د) وإذا عقد يمينه بكلمة كلما فإنه يحتاج إلى تكرار الفسخ في كل يمين.
فهي أربع مسائل في شرح المجمع للمصنف فإن أمضاه قاضٍ حنفي بعد ذلك كان أحوط. (البحر الرائق: ٤/٦، باب التعليق، كوئته. وكذا في الشامي: ۳/۳٤٦، سعيد. وفتح القدير: ۷/۳۰٦، دار الفكر. خلاصة الفتاوى: ۲/۲۷، الرشيدية).
وفي المحيط البرهاني: وإذا كتب القاضي الحنفي إلى القاضي الشافعي [في الأصل الشفعوي] في تقليده في هذه الصورة وأمثالها إن كان التقليد للحكم ببطلان اليمين كان جائز اً في قول أبي حنيفة رحمه الله
وذكر شمس الأئمة الحلواني رحمه الله في شرح أدب القاضي للخصاف: أن حكم الحاكم فيما عدا الحدود والقصاص من المجتهدات نحو الكنايات، والطلاق المضاف جائز، هذا هو الظاهر من مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى، وهو الصحيح لكن مشايخنا امتنعوا عن هذه الفتوي
كيلا يتجاسر العوام. (المحيط البرهاني: ٤/۲۵٤، كتاب النكاح، المجلس العلمي).
(۲) اگر کسی شخص نے اپنی ساس کے ساتھ زنا کیا، پہلے دینداری نہیں تھی، اب دینداری آنے کے بعد شوہر نے اس کا اقرار کیا، بیوی کو پتا چلا تو تفریق کے لیے قاضی کے پاس گئی، اتفاق سے وہ قاضی شافعی تھا، اور اس نے بیوی کو شوہر کے ساتھ رہنے کا حکم دیا، تفریق نہیں کی، اب یہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے ۔
فتاوی سراجیہ میں ہے:
إذا زني بأم امرأته فراجعته إلى القاضي، فلم يفرق بينهما وأقرهما على ذلك، فليس لقاضٍ آخر أن يفرق بينهما. (الفتاوى السراجية: ۱۱٦، كتاب القضاء، ما يجوز من القضاء).
فتاوی عالمگیری میں ہے:
قال صاحب الأقضية: ولو زنى رجل بأم امرأته، ولم يدخل بها، فجلده القاضي ورأى أن لا يحرمها عليه، فأقرها معه وقضى بذلك نفذ قضائه. (الفتاوى الهندية: ۳/۳۵۸).
وذكر مثله صاحب المحيط عن صاحب الأقضية: وزاد بقوله: نفذ قضاء ه لأنه قضي في فصل مجتهد فيه، فإن بين الصحابة اختلافاً في هذه الصورة، فعند ابن مسعود رضي الله عنه
قالوا بالحرمة، وابن عباس رضي الله عنه كان لا يقول بالحرمة وكان يقول: "الحرام لا يحرم الحلال" وربما كان يرويه مرفوعاً إلى رسول الله ﷺ. (المحيط البرهاني: ۱۲/۲٤۷، كتاب القضاء. وكذا في خلاصة الفتاوى: ٤/۲٦).
(۳) اگر کسی آدمی نے کسی عورت سے زنا کیا پھر اس کی بیٹی سے شادی کی، اور قاضی نے نکاح کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا تو امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک نافذ نہ ہوگا، امام محمد رحمه الله کے نزدیک نافذ ہو جائے گا ۔ فتاوی ظہیریہ سے معلوم ہوا کہ امام محمد رحمه الله کے قول پر فتویٰ ہے کما مر آنفاً ۔
فتح القدیر میں ہے:
وحكي في الفصول فيما إذا زني بامرأة ثم تزوج بنتها فقضي بجوازه
عند أبي يوسف رحمه الله لا ينفذ للنص عليه، وعند محمد رحمه الله يجوز. (فتح القدير: ۷/۳۰۳، دار الفكر. وكذا في الفتاوى الهندية: ۳/۳۵۸. والمحيط البرهاني: ۱۲/۲٤۷).
(٤) ایک شافعی لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر حنفی مرد سے نکاح کیا، شوافع کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح نہیں ہو سکتا، اور احناف کے نزدیک ہو جاتا ہے، اب اس صورت میں شوہر بیوی کے ساتھ ہم بستری کر سکتا ہے یا نہیں؟ اور بیوی شوہر کو اپنے اوپر قدرت دے سکتی ہے یا نہیں؟ یاد رہے کہ جنوبی افریقہ کے مسلمان بعض حنفی ہیں اور بعض شافعی؟
الجواب: اولاً لڑکی کو چاہیے کہ والدین کی رضامندی سے نکاح کرے، لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو پھر اس مسئلہ کا حل بھی یہی ہے کہ لڑکی کسی حنفی قاضی یا جمعیت کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر دے، پھر وہ حضرات نکاح کے درست ہونے کا فیصلہ کر دیں کے تو یہ فیصلہ نافذ ہو جائے گا ۔ اگر چہ فقہ حنفی کی روشنی میں یہ نکاح درست ہے، لیکن چونکہ لڑکی مطمئن نہیں ہے اس لیے قاضی کے فیصلہ کی ضرورت محسوس ہوئی ۔
قال الماوردي: وليس للزوج الاستبداد بعقد مختلف فيه، إلا أن كانا من أهل الاجتهاد واداهما إلى ذلك وإلا فوجهان أحدهما: نعم، وثانيهما: لا، إلا بإفتاء مفتٍ أو حكم حاكم. (حواشي الشيخ عبد الحميد الشرواني والشيخ احمد بن قاسم العبادي على تحفة المحتاج: ۷/۲۸۳).
در مختار میں ہے:
والحنفي كفء لبنت الشافعي، وقال الشامي: يعني لو تزوج حنفي بنت شافعي نحكم بصحة العقد، وإن كان في مذهب أبيها أنه لا يصح العقد إذا كانت بكراً إلا بمباشرة وليها، لا نا نحكم بما نعتقد صحته في مذهبنا.
قال في البزازية: وسئل شيخ الإسلام عن بكر بالغة شافعية زوجت نفسها من حنفي أو شافعي بلا رضا الأب هل يصح؟ أجاب: نعم وإن كانا يعتقدان عدم الصحة، لا نا نجيب بمذهبنا، لا بمذهب الخصم
(الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۹۳، باب الكفاء ة، سعيد).
(۵) اگر کسی شخص نے اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح غیر عادل گواہوں کی گواہی سے نابالغ لڑکے سے کر دیا، اب دونوں بالغ ہو گئے، لیکن دونوں کے درمیان بہت دوری ہے ملنا مشکل ہے، تو اگر حنفی قاضی شافعی قاضی کو خط لکھ دے کہ آپ اس نکاح کو باطل کر دے، اور شافعی قاضی اس نکاح کے باطل ہونے کا فیصلہ کر دے، تو یہ فیصلہ نافذ ہو جائے گا، حنفی اس کے مطابق عمل کر سکتا ہے ۔
اسی طرح اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو چھوڑ کر دوسرے ملک چلا گیا اور اس کے واپس آنے کا امکان نہیں ہے، اور یہ نکاح فاسق گواہوں کی گواہی سے ہوا تھا، تو اگر حنفی قاضی شافعی قاضی کے پاس عورت کو بھیج دے اور شافعی قاضی نکاح کے باطل ہونے کا فیصلہ کر دے تو یہ فیصلہ نافذ ہو جائے گا ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
ذكر في مجموع النوازل: سئل شيخ الإسلام عطاء بن حمزة عن أب الصغيرة زوجها من صغير، وقبل أبوه، وكبر الصغيران وبينهما غيبة منقطعة، وقد كان التزويج بشهادة الفسقة هل يجوز للقاضي أن يبعث إلى شافعي المذهب ليبطل هذا النكاح بسبب أنه كان بشهادة الفسقة؟ قال: نعم. (الفتاوى الهندية: ۳/۳٦۲. وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۳/۱۹٦. وفتاوى الشامي: ۵/٤۰۳).
وفي المحيط: سئل شيخ الإسلام أبو الحسن عطاء بن حمزة عن رجل غاب عن امرأته غيبة منقطعة، وقد كان النكاح بينهما بشهادة الفسقة، هل يجوز للقاضي أن يبعث إلى القاضي الشافعي ليبطل هذا النكاح بهذا السبب؟ قال: نعم. (المحيط البرهاني: ٤/۲۵۸).
(٦) ایک شخص نے کسی لڑکی سے اس کے ولی کی اجازت کے بغیر شادی کی، دخول کے بعد اسے تین طلاق دے دی، اب ولی اس لڑکی کی شادی اسی آدمی سے کرانا چاہتا ہے، لیکن حلالہ سے بچنا چاہتا ہے، تو اس کی صورت یہ ہے کہ قاضی زوجین کو شافعی قاضی کے پاس بھیج دے، جو پہلے نکاح کے باطل ہونے کا فیصلہ کرے گا، اور نکاح ثانی کو جائز قرار دے گا، اور یہ فیصلہ بلا کسی خرابی کے نافذ ہو جائے گا ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:
وكذا لوكان بغير ولي فطلقها ثلاثاً فبعث إلى شافعي يزوجها منه بغير محلل، ثم يقضي بالصحة وبطلان النكاح الأول يجوز إذا لم يأخذ القاضي الكاتب ولا المكتوب إليه شيئاً، ولا يظهر بهذا حرمة الوطء السابق ولا شبهة ولا خبث في الولد، كذا في الخلاصة. (فتح القدير: ۳/۲۰۳، كتاب النكاح، دار الفكر. وكذا في الفتاوى الهندية: ۳/۳٦۲. والبحر الرائق: ۳/۸۹. والمحيط البرهاني: ٤/۲۵۹).
خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام مسائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر حنفی قاضی یا مفتی، زوجین کو شافعی قاضی یا جمعیت کے شافعی علماء کے پاس بھیج دے اور وہ حضرات نکاح کے جائز ہونے کا فیصلہ کر دے تو یہ فیصلہ درست ہے، اور حنفی کے لیے اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.