زوجین میں شقاق کی وجہ سے فسخ و تفریق کا حکم:

13 min readFatwa Vol 4 #124Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱۱): فسخ و تفریق کا بیان

Question

سوال کا ما حصل اور اشکالات کا خلاصہ حسب ذیل درج ہے:۔
بیوی اور اس کے خاندان والوں کا بیان حقیقت پر مبنی ہو تو ان کی شکایات کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے، جن کی وجہ سے بیوی اور اس کے خاندان والے نکاح فسخ کرانا چاہتے ہیں:
(
۱
) شوہر بیوی سے کئی دن بات چیت نہیں کرتا، اور اس کو ذہنی اذیت میں مبتلا رکھتا ہے ۔
(
۲
) شوہر کی اجازت سے جانے کے بعد بھی شوہر بیوی کو نفقہ نہیں دیتا ۔
(
۳
) اولاد شرعاً اور طبعاً مرغوب ہے ۔
"تزوجوا الودود الولود" (رواه أبو داود)
کی حدیث اور
"نسائكم حرث لكم" (سورة البقرة: الآية: ۲۲۳)
اور انبیاء علیہم الصلاۃ و السلام کی دعائیں اور ان جیسی بے شمار نصوص اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں، جب کہ شوہر اولاد کو بوجھ سمجھتا ہے اور اولاد کو روکنے کی کوشش کرتا ہے یا ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے ۔
(
٤
) شوہر بیوی سے حد درجہ بیزار ہے، یہاں تک کہ بیوی کے رشتہ داروں سے بھی تعلق رکھنے کا روادار نہیں، اور اس بیزاری کے نتیجہ میں بیوی بھی شوہر سے بیزار ہو چکی ہے، اس لئے شوہر سے الگ رہنا چاہتی ہے ۔
(
۵
) شوہر بیوی سے بیزاری کے نتیجہ میں طلاق کا خواہاں ہے، لیکن طبعی حرص یا لالچ کی وجہ سے یا بیوی کو تنگ کرنے کی نیت سے دو لاکھ کی خطیر رقم کا مطالبہ کرتا ہے جو ایک نامعقول مطالبہ ہے ۔
(
٦
) شوہر کے مزاج میں یہاں تک ضد ہے کہ اپنے والد کی عیادت سے بھی گریزاں رہا، یہاں تک کہ ان کی نماز جنازہ میں بھی شرکت گوارا نہیں کی ۔

Answer

جمعیت کے اربابِ بست و کشاد سے درخواست ہے کہ ان امور کی تحقیق فرما دیں، اگر واقعی یہ الزامات درست ہوں، تو میرے خیال میں ان امور کی وجہ سے اگر شوہر طلاق پر آمادہ نہ ہو، یا جو کچھ شوہر نے مہر میں دیا ہو اس کو واپس لے کر خلع پر بھی آمادہ نہ ہو تو جمعیت نکاح فسخ کر سکتی ہے ۔ مفتیانِ عظام نے زوجہ کو برا بھلا کہنے، گالی دینے کو باعثِ تفریق قرار دیا ہے، کئی کئی دنوں تک بات نہ کرنا اس سے بھی زیادہ باعثِ اذیت ہے ۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
اگر شوہر زوجہ کو برا بھلا کہے، گالی دے جو عورت کے لئے انتہائی تحقیر اور اذیت کا باعث ہو، شدید زد و کوب کرے تو اس کو حق تفریق حاصل ہوگا ۔
قرآن مجید میں
﴿ولا تمسكوهن ضراراً لتعتدوا، ومن يفعل ذـلك فقد ظلم نفسه﴾. (سورة البقرة: ۲۳۱).
وارد ہوا ہے، ظاہر ہے کہ ضرب شدید اور گالی گلوچ سے بڑھ کر ضرر رساں بات اور کیا ہو گی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص: ۱۹۹، دفعہ ۸۱) ۔
اسی طرح اگر زوجین میں شقاق پایا جاتا ہو جس کی اصلاح کی صورت ممکن نہ ہو تب بھی تفریق ہو سکتی ہے ۔
لفظِ "شقاق" کی تحقیق:
"شقاق" کے معنی عداوت، دشمنی اور مخالفت کے ہیں، اور چونکہ یہ باب مفاعلہ کا مصدر ہے اس لئے اس کے معنی یہ ہے کہ باہم شقاق میں اس حالت پر ہو جانا کہ ایک شخص ایک شق پر ہو یعنی ایک سرے پر ہو اور دوسرا دوسرے سرے پر ہو، یعنی دو آدمیوں کے درمیان شقاق (عداوت، دشمنی، مخالفت) نے انتہائی صورت اختیار کر لی ہو، اسی کی تعبیر مفرداتِ امام راغب میں ان الفاظ سے ہے:
الشقاق: المخالفۃ وکونک في شق غیر شق صاحبک ۔ (
المفردات في غريب القرآن، ص ۲٦٤).

زن و شوہر میں جب شقاق رونما ہو جائے تو اس کے متعلق شرعی حکم قرآن مجید میں موجود ہے:

﴿وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكماً من أهله وحكماً من أهلها، إن يريدا إصلاحاً يوفق اللّه بينهما، إن اللّه كان عليما خبيراً﴾
۔ (
سورة النساء: ۳۵).

یہ شقاق عام ہے چاہے شوہر کے بلا وجہ مار پیٹ سے باہم زن و شوہر میں پیدا ہوا ہو، یا بیوی کی جائیداد پر ناجائز تصرف کی وجہ سے پیدا ہوا ہو، یا بے پردگی اور موجودہ فیشن کی عریانی اختیار کرنے پر جبر کرنے کی بنا پر پیدا ہوا ہو، یا دیگر قسم کے محرمات پر آ کراہ اور جبر کرنے کے وجہ سے پیدا ہوا ہو، یا فرائض و واجبات کی ادائیگی سے روکنے کی بنا پر پیدا ہوا ہو، یا اسی طرح کے اور امور کی وجہ سے رونما ہوا ہو، سب کے لئے قرآن کا حکم یہ ہے کہ حکمین کے ذریعہ اس شقاق کو دور کیا جائے ۔ (کتاب الفسخ و التفریق: ص: ۱۵۲) ۔
ڈاکٹر تنزیل الرحمن صاحب "مجموعہ قوانین اسلام" فرماتے ہیں:
"شقاق" کے لفظی معنی "اختلاف" کے ہیں یہ لفظ شق سے ماخوذ ہے جس کے معنی "طرف یا جانب" کے ہیں، چونکہ باہمی اختلاف کے سبب میاں بیوی دو اطراف میں بٹ جاتے ہیں اس لیے اس صورتِ حال کو قرآن کریم "شقاق" سے تعبیر کرتا ہے، جیسے اردو زبان میں "ناچاقی" کہا جاتا ہے ۔ (مجموعہ قوانین اسلام: ۲/٦۴۴، بحوالہ اسلامی قانون نکاح و طلاق، از مولانا یعقوب قاسمی صاحب ص ۱۳۳) ۔
علامہ نسفی فرماتے ہیں:

الشقاق: العداوة، لأن كلا منهما يفعل ما يشق على صاحبه أو يميل إلى شق أي ناحية غير شق صاحبه. (تفسير النسفي: ۱/۲۲٤. وكذا في التفسير المنير: ۵/۵۸. وأحكام القرآن للجصاص: ۲/۱۹۰).

علامہ آلوسی فرماتے ہیں:

والشقاق: الخلاف والعداوة، واشتقاقه من الشق، وهو الجانب، لأن كلاً من المتخالفين في شق غير شق الآخر. (روح المعاني: ۵/۲٦).
وفيه أيضاً: واختلف في أنهما (أي الحكمين) هل يليان الجمع والتفريق إن رأيا ذلك؟ فقيل: لهما، وهو المروي عن على كرم الله وجهه وابن عباس رضي الله عنه ما، وإحدى الروايتين عن ابن جبير، وبه قال الشعبي، فقد أخرج الشافعي في الأم والبيهقي في السنن وغيرهما عن عبيدة السلماني قال: جاء رجل وامرأة إلى على كرم الله وجهه ومع كل واحد منها فئام من الناس، فأمرهم على كرم الله وجهه أن يبعثوا حكماً من أهله وحكماً من أهلها، ثم قال للحكمين: تدريان ما عليكما؟ عليكما إن رأيتما أن تجمعا أن تجمعا، وإن رأيتما أن تفرقا أن تفرقا، قالت المرأة: رضيت بكتاب الله تعالى بما على فيه ولي، وقال الرجل: أما الفرقة فلا، فقال على كرم الله وجهه: كذبت والله حتى تقر بمثل الذي أقرت به. (روح المعاني: ۵/۲٦).
وفي التفسير المظهري: فقال مالك: يجوز لحكم الزوج أن يطلق المرأة بدون رضا الزوج، ولحكم المرأة أن يختلع بدون رضا المرأة، ويجب عليها المال إذا رأي الصلاح في ذلك حيث ملك على الحكمين الجمع والتفريق، وكذب الزوج على نفي الفرقة

الخ. (التفسير المظهري: ۲/۱۰۱، بلوجستان).

مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
اگر زوجین کے درمیان شدید نفرت پیدا ہو جائے کہ دونوں کا اللہ کے حدود کو قائم رکھتے ہوئے ازدواجی زندگی گزارنا ممکن نظر نہ آئے تو ایسی صورت میں:
(الف) قاضی حکمین مقرر کرے گا، تاکہ اصلاح کی صورت نکل سکے ۔
(ب) اگر تحکیم کے باوجود اصلاح حال یا باہمی رضامندی سے علیحدگی کی کوئی صورت نہیں نکل سکے تو قاضی بر بنائے شقاق، زوجہ کے مطالبہ کی صورت میں تفریق کر دے گا ۔
تشریح: اگر زوجین میں اختلاف و شقاق پیدا ہو جائے یعنی کسی وجہ سے زوجین کے درمیان ایسی شدید نفرت پیدا ہو جائے کہ حسنِ معاشرت کی گنجائش باقی نہ رہے، اور اللہ کے حدود پر قائم رہنا مشکل ہو جائے تو ایسی صورت میں ابتداءً اصلاح کی کوشش کی جائے گی اور اس کے لئے حکمین مقرر کیے جائیں گے، حکمین کی کوشش ہو گی کہ یہ منافرت دور ہو جائے یا دونوں کی رضامندی سے علیحدگی ہو جائے، لیکن اگر اس کوشش میں بھی ناکامی ہو تو قاضی کے ذریعہ تفریق کر دی جائے گی، واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم معاشرت بالمعروف کا ہے، اس کے لئے دونوں طرف سے محبت ضروری ہے، معاشرت بالمعروف کے امکانات اس وقت ختم ہو جائیں گے جب زوجین ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں، یا زوجین میں سے کوئی ایک نفرت کرنے لگے تو بھی شقاق قرار دیا جائے گا کہ دونوں کی رضا معاشرت بالمعروف کے لئے ضروری ہے، اور ایک کی طرف سے بھی محبت و رضا کا فقدان معاشرت بالمعروف کو ختم کرنے کے لئے کافی ہے، پس دونوں ہی ایک دوسرے سے نفرت کریں، یا کسی بھی وجہ سے عورت شدید نفرت میں مبتلا ہو تو قاضی کو چاہیے کہ حکمین مقرر کرے جو اصلاحِ حال کی صورت نکالیں، اور اگر باوجود ان کی کوششوں کے اصلاح حال ممکن نہ ہو اور نکاح اپنے مقاصد سے خالی ہو جائے یعنی امساک بالمعروف سخت دشوار ہو جائے تو شوہر کی ذمہ داری تسریح بالاحسان ہے لیکن اگر شوہر اس سے گریز کرے تو قاضی نیابۃً عن الزوج تفریق کر دے گا ۔ (مجموعہ قوانینِ اسلامی: ۲۰۰، ۲۰۲، دفعہ ۸۲، مسلم پرسنل لا بورڈ) ۔
مجموعہ قوانین اسلام میں ہے:
ظلم یا ناچاقی کے سبب عدالت (یا اس کے قائم مقام مثلاً جمعیت العلماء) میاں بیوی کے درمیان جو تفریق کر دے گی تو وہ تفریق اپنے حکم کے اعتبار سے "ایک طلاق بائن" ہو گی، "و الفراق في ذلک طلاق بائن" ۔ (مجموعہ قوانین اسلام، از ڈاکٹر تنزیل الرحمن صاحب: ۲/٦۷۵، بحوالہ اسلامی قانون نکاح و طلاق، ۱۳۳) ۔
حکمین کی شرائط ملاحظہ فرمائیں:
حکمین کے تقرر میں ان قیود و شرائط کا پورا پورا لحاظ رکھے، جن کا مسلک مالکیہ میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے، ملاحظہ فرمائیں "الأحوال الشخصية" میں ہے:

ويشترط في الحكمين عندهم أربعة شروط: وهي الذكورة، والعدالة، والرشد، والعلم بما هو بسبيله، فلا يجوز تحكيم النساء ولا الصبيان ولا العبيد ولا المجانين ولا الكفار ولا الفسقة ولا السفهاء، ولا من لا علم عندهم بأحكام النشوز والصلح. ثم إن وجد حكمان من أهل الزوجين وأمكن تحكيمهما وجب تحكيمهما، ولم يجز للقاضي أن يبعث أجنبيين. ويندب كون الحكمين من جيران الزوجين، ولا يشترط رضاء الزوجين بما يحكمان به. (الأحوال الشخصية: ۴۰۸).

مالکیہ کے نزدیک حکمین میں چار شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے:
(
۱
) مرد ہونا ۔
(
۲
) عادل ہونا ۔
(
۳
) رشید ہونا ۔
(
٤
) جس کام کے لئے حکم بنایا جا رہا ہے اس کے مسائل سے واقف ہونا ۔
لہذا عورت، بچہ، مجنون، کافر، فاسق اور سفیہ کو حکم بنانا جائز نہیں، اسی طرح اس شخص کو بھی جس کو نشوز اور صلح کے احکام کا علم نہ ہو، حکم بنانا جائز نہیں ۔
پھر اگر زوجین کے گھرانے سے دو حکم موجود ہوں اور ان دونوں کو حکم بنانا ممکن ہو تو ان دونوں کو حکم بنانا واجب ہوگا، اور قاضی کے لئے جائز نہیں ہوگا کہ دو اجنبیوں کو حکم بنا کر بھیجے، اور مستحب یہ ہے دونوں حکم زوجین کے پڑوسی ہوں اور حکمین کے فیصلہ پر زوجین کا راضی ہونا شرط نہیں ہے ۔ (ملخص از "کتاب الفسخ و التفریق" ص ۱۵۷) ۔
الموسوعہ الفقہیہ میں ہے:

ذهب الفقهاء إلى أنه يشترط في الحكمين العدالة، والفقه بأحكام النشوز، واختلفوا في اشتراط الذكورة والحرية، وذلك في الجملة، ولهم تفصيل:
قال المالكية: شرط الحكمين الذكورة والرشد والعدالة والفقه بما حكما فيه، وبطل حكم غير العدل، وهو الفاسق والصبي والمجنون بإبقاء أو بطلاق بغير مال أو بمال في خلع، وبطل حكم سفيه "وهو المبذر في الشهوات ولو مباحة على المذهب" وحكم امرأة، وحكم غير فقيه بأحكام النشوز ما لم يتشاور العلماء في ما يحكم به، فإن حكم بما أشاروا به عليه كان حكمه نافذاً. (الموسوعة الفقهية الكويتية: ۴۷/۱۱، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.