وجوب عدت کے شرائط:

1 min readFatwa Vol 4 #139Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱۲): عدت کا بیان

Question

وجوب عدت کے شرائط:

Answer

نکاحِ صحیح کی صورت میں اگر وطی یا خلوت سے پہلے علیحدگی ہو گئی تو عدت واجب نہیں ہے، لیکن اگر شوہر کا انتقال ہو جائے تو بہر حال عدت واجب ہے، مطلق خلوت سے عدت واجب ہو جاتی ہے، خواہ خلوتِ صحیحہ ہو یا فاسدہ ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:

وسبب وجوبها عقد النكاح المتأكد بالتسليم وما جري مجراه من موت أو خلوة أي صحيحة فلا عدة بخلوة الرتقاء وشرطها الفرقة.
وفي الشامي: قوله وما جري مجراه

وهذا خاص بالنكاح الصحيح أما الفاسد فلا تجب فيه العدة إلا بالوطء. قوله أي صحيحة: فيه نظر فإن الذي تقدم في باب المهر أن المذهب وجوب العدة للخلوة صحيحة أو فاسدة. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۵۰٤، باب العدة، ط: سعيد. وكذا في البحر الرائق: ٤/۱۲۸، ط: كوئته. وفتح القدير: ٤/۳۳٤، باب العدة، دار الفكر).

مدتِ عدت:
(الف) عدتِ وفات قمری چار مہینے دس دن ہیں، اور اگر زوجہ حاملہ ہو تو وضع حمل ہے ۔
(باء) مطلقہ کی عدت اگر اسے حیض آتا ہو تو مکمل تین حیض ہے، اور اگر کم عمری یا زیادہ عمر کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو قمری تین مہینے ہیں، اگر مطلقہ حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.