شوہر کے مرتد ہونے سے وجوبِ عدت کا حکم:
Question
شوہر کے مرتد ہو جانے کی وجہ سے عورت خود بخود اس کے نکاح سے نکل جاتی ہے، لیکن دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے یا عدت لازم ہے؟
Answer
شوہر کے مرتد ہو جانے کی وجہ سے اس کی بیوی خود بخود اس شخص کے نکاح سے نکل گئی، مگر دوسرے مسلمان کے ساتھ شادی کرنے کے لئے اس پر بھی عدت لازم اور ضروری ہے، بغیر عدت گزارے دوسری جگہ نکاح صحیح نہیں ہوگا، اور زمانہ عدت شوہر کے مرتد ہوتے ہی شروع ہو جائے گا ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
وارتداد أحدهما فسخ عاجل
وعليه نفقة العدة الخ. وفي الشامي: قوله وعليه نفقة العدة، أي لو مدخولاً بها إذ غيرها لا عدة عليها، وأفاد وجوب العدة سواء ارتد أو ارتدت بالحيض أو بالأشهر لو صغيرة أو آيسة أو بوضع الحمل كما في البحر. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۱۹۳، ۱۹٤ باب نكاح الكافر، ط: سعيد).
وفيه أيضا وهي في حق حرة ولو كتابية تحت مسلم تحيض لطلاق ولو رجعياً أو فسخ بجميع أسبابه
ثلاث حيض كوامل. وفي الشامية: قوله بجميع أسباب مثل الانفساخ بخيار البلوغ والعتق وعدم الكفائة وملك أحد الزوجين الآخر والردة في بعض الصور. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۵۰٤، ط: سعيد).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
اگر شوہر مرتد ہو جائے تو نکاح خود بخود ختم ہو جائے گا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص۲۰۸) ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
صورتِ مسئولہ (شوہر کے مرتد ہونے) میں ہندہ زید کے نکاح سے خارج ہو گئی اور عدت ہندہ پر لازم ہے بعد عدت وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے، اور زمانہ عدت وقت ارتداد شوہر سے شمار ہوگا ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱۰/۳۳۳، مدلل مکمل) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (الفتاوی التاتارخانیۃ: ۵۳/۵٤٦، و کتاب الفتاوی: ۵/۱۸۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.