حمل خشک ہونے سے عدت کا حکم:
Question
متوفی عنہا زوجہا حاملہ تھی کہ اچانک اس کا حمل خشک ہو گیا، تو اب عدت کس طرح گزارے گی؟
Answer
متوفی عنہا زوجہا کا حمل یقینی طور پر متحقق ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے، لیکن اگر حمل متحقق نہیں ہے یا تھا مگر خشک ہو گیا تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں:
قال الله تعالى: ﴿وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن﴾. (سورة الطلاق: الآية: ٤).
اگر حمل متحقق نہیں تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے:
قال الله تعالى: ﴿والذي يتوفون منكم ويذرون أزوجاً يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشراً﴾. (سورة البقرة: الآية: ۲۳٤).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
عدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر وعشرة أيام سواء كانت مدخولاً بها أو لا مسلمة أو كتابية تحت مسلم صغيرة أو كبيرة أو آيسة وزوجها حر أو عبد حاضت في هذه المدة أو لم تحض ولم يظهر حبلها كذا في فتح القدير. (الفتاوى الهندية: ۱/۵۲۹).
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما عدة الحبل فمقدارها بقية مدة الحمل قلت أو كثرت حتى لو ولدت بعد وجوب العدة بيوم أو أقل أو أكثر انقضت العدة
وشرط انقضاء هذه العدة أن يكون ما وضعت قد استبان خلقه أو بعض خلقه
لأنه إذا استبان خلقه أو بعض خلقه فهو ولد فقد وجد وضع الحمل فتنقضي به العدة وإذا لم يستبن لم يعلم كونه ولداً بل يحتمل أن يكون ويحتمل أن لا يكون فيقع الشك في وضع الحمل فلا تنقضي العدة بالشك. (بدائع الصنائع: ۳/۱۹٦، سعيد).
فتاوی دار العلوم میں ہے:
جب کہ حمل پیٹ میں خشک ہو گیا، تو شریعت میں وہ حاملہ متصور نہ ہو گی، اور عدت اس کی چار ماہ دس ہو گی مثل غیر حاملہ کے پس مراد حاملہ سے وہ ہے کہ حمل اس کا متحقق ہو، اور جب کہ خشک ہو گیا تو حاملہ ہونا اس کا متحقق نہ رہا ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند ۱۰/۳۵۲، مدلل مکمل) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.