مطلقاً مہینوں سے تعیین عدت کا حکم:
Question
پاکستان کے عائلی قوانین (
Family Laws Ordinance
) دفعہ ۷ طلاق و عدت کے مسائل ضمن (۳) میں یہ قانون مقرر ہوا ہے کہ عورت طلاق دینے کے بعد نوے دن عدت گزارے، اس کے بعد کسی اور جگہ نکاح کر سکتی ہے، آپ شریعت کی روشنی میں بتلا دیں کہ عدت تین حیض ہیں، یا تین طہر یا تین ماہ؟
Answer
کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں ذوات الاقراء (ماہواری آتا ہو) عورتوں کی عدت مذہبِ احناف کے مطابق تین حیض ہیں، مطلقاً تین ماہ عدت گزارنا کافی نہیں ہے، مکمل تین حیض گزرنے کے بعد از روئے شرع عورت دوسری جگہ نکاح کرنے کی مجاز ہوگی ۔
قرآن و حدیث سے چند دلائل حسب ذیل درج ہیں:
(۱) قال الله تعالى: ﴿والمطلقت يتربصن بأنفسهن ثلثة قروء﴾. (سورة البقرة: الآية: ۲۲۸).
مفتی اعظم پاک و ہند حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اور طلاق دی ہوئی عورتیں (جن میں اتنی صفتیں ہوں، خاوند نے ان سے صحبت یا خلوت صحیحہ کی ہو، ان کو حیض آتا ہو، آزاد ہوں، یعنی شرعی قاعدہ سے لونڈی نہ ہوں) اپنے آپ کو (نکاح سے) روکے رکھیں، تین حیض (ختم ہونے) تک ( اور اس کو عدت کہتے ہیں) ۔ (معارف القرآن: ۱/۵٤۵، از حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله) ۔
مذکورہ بالا آیتِ کریمہ میں لفظ "قروء" سے مراد حیض ہے، جس کے دلائل حسب ذیل درج ہیں:
(۱) سنن ابن ماجہ میں روایت ہے:
عن عروة بن الزبير أن فاطمة بنت أبي حبيش حدثته أنها أتت رسول الله ﷺ، فشكت إليه الدم، فقال رسول الله ﷺ: إنما ذلك عرق، فانظري إذا أتي قرء ك فلا تصلي فإذا مر القرء فتطهري
الخ. (رواه ابن ماجه: ٤۵. وأبو داود ۱/۳۷. والبيهقي في سننه الكبرى: ۱/۳۳۲. والنسائي في سننه الكبرى: ۳/٤۰۱).
یعنی "جب حیض آ جائے تو نماز چھوڑ دو" اس حدیث میں قرء صراحۃً حیض کے معنی میں ہے ۔
(۲) ابو داود شریف میں ہے:
عن عدي بن ثابت
عن النبي ﷺ قال: المستحاضة تدع الصلاة أيام أقراء ها، ثم تغتسل وتتوضأ لكل صلاة ثم تصلي
(رواه أبو داود: ۱/۳۷، ٤۱، ٤ ۳. وابن ماجه: ٤٦. والترمذي: ۱/۳۳. والبيهقي في سننه الكبرى: ۱/۳٤۵، ۳٤٦).
یعنی مستحاضہ حیض کے ایام میں نماز چھوڑ دے گی، یہاں بھی اقراء حیض کے معنی میں ہے ۔
(۳) طبرانی میں روایت ہے:
عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما أن النبي ﷺ قال: إن للحائض دفعات، ولدم الحيض ريح ليس لغيره، فإذا ذهب قرء الحيض فلتغتسل إحداكن ثم لتغسل عنها الدم. (رواه الطبراني في الكبير: ۱۱/۲۰۸/۱۱۵۱٤. وذكره الهيثمي في المجمع: ۱/۲۸۰، في الحيض والاستحاضة، ط: دار الفكر).
(٤) سنن نسائی میں روایت ہے:
عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن أم حبيبة رضي الله تعالى عنها
استحيضت
قال: لتنظر قدر قرءها التي كانت تحيض لها
. (سنن النسائي: ۱/٦۵. ومسند الامام احمد بن حنبل: ٦/۱۲۸/۲۵۰۱٦).
اس روایت میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو استحاضہ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: حیض کے ایام کے بقدر انتظار کرے ۔ اور لفظ حیض کی جگہ قرء کا لفظ استعمال فرمایا ۔
علاوہ ازیں روایاتِ کثیرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عدت حیض کے ساتھ ہے ۔
احادیث سے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) ترمذی شریف میں ہے:
عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما، أن امرأة ثابت بن قيس اختلعت من زوجها على عهد رسول الله ﷺ، فأمرها النبي ﷺ أن تعتد بحيضة. (رواه الترمذي: ۱/۲۲۵. وأبو داود: ۱/۳۰۳ والحاكم وصححه ووافقه الذهبي: ۲/۲۵۷/۲۸۲۵، ۲۸۲٦).
(۲) ابن ماجہ شریف میں ہے:
عن ابن عمر رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: طلاق الأمة اثنتان، وعدتها حيضتان. وفيه عطية وهو ضعيف. (رواه ابن ماجه: ۱/۱۵۰).
وله شاهد من حديث عائشة رضي الله تعالى عنها، انظر: أبو داود: ۱/۲۹۸، سنة طلاق العبد. والترمذي: ۱/۲۲٤، طلاق الأمة تطليقتان. والسنن الكبرى للبيهقي: ۷/۳٦۹. والمستدرك على الحاكم وقال الحاكم: الحديث صحيح، ووافقه الذهبي: ۲/۲۵٦/۲۸۲۲، ط: دار ابن حزم).
(۳) سنن ابن ماجہ میں ہے:
عن عبد الله رضي الله تعالى عنه قال في طلاق السنة: يطلقها عند كل طهر تطليقة، فإذا طهرت الثالثة، طلقها، وعليها بعد ذلك حيضة. (سنن ابن ماجه: ۱/۱٤۵).
(٤) عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: أمرت بريرة أن تعتد بثلاث حيض. (سنن ابن ماجة: ۱/۱۵۰. مصنف عبد الرزاق: ۷/۲۵۰).
(۵) سنن کبری میں ہے:
عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما في الأمة تكون تحت الحر: تبين بتطليقتين وتعتد حيضتين، وإذا كانت الحرة تحت العبد بانت بتطليقتين وتعتد ثلاث حيض. (السنن الكبرى للبيهقي: ۷/۳٦۹. وسنن الدار قطني: ٤/۳۹).
(نوٹ: اس روایت میں طلاق کے بارے میں شوہر یعنی عبد کا اعتبار کیا گیا ہے شاید یہ ابن عمر رضي الله عنه کا مسلک ہوگا) ۔
(٦) عن عطاء بن أبي رباح أن مارية اعتدت بثلاث حيض بعد النبي ﷺ يعني أم إبراهيم. (السنن الكبرى: ۷/٤٤۸).
(۷) سئل عمر رضي الله عنه عن رجل غاب عن امرأته، فبلغها أنه مات فتزوجت، ثم جاء الزوج الأول، فقال عمر رضي الله تعالى عنه: يخير الزوج الأول بين الصداق وامرأته، فإن اختار الصداق تركها مع الزوج الآخر، وإن شاء اختار امرأته، وقال على رضي الله تعالى عنه: لها الصداق بما استحل الآخر من فرجها، ويفرق بينه وبينها، ثم تعتد ثلاث حيض ثم ترد على الأول. (مصنف ابن أبي شيبة: ۹/۲۱۱، المجلس العلمي).
(۸) عن معمر عن الزهري في امرأة بكر طلقت لم تكن حاضت، فاعتدت شهراً أو شهرين ثم حاضت، قال: تعتد ثلاث حيض. (مصنف عبد الرزاق: ٦/۳٤۳).
علاوہ ازیں مصنف ابن ابی شیبہ و مصنف عبد الرزاق اور شرح معانی الآثار میں متعدد روایات و آثار موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عدت حیض کے ذریعہ گزارنی ہو گی ۔
مفتی بغداد علامہ آلوسی روح المعانی میں فرماتے ہیں:
وذهب ساداتنا الحنفية إلى أن المراد بالقرء الحيض، وهو المروي عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما، ومجاهد رحمه الله، وقتادة رحمه الله، والحسن رحمه الله، وعكرمة رحمه الله، وعمرو بن دينار رحمه الله، وجم غفير
(روح المعاني: ۲/۱۳۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.