بوڑھی عورت کے لیے بیٹے کے گھر عدت گزارنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #168Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱۲): عدت کا بیان

Question

معتدۂ وفات نے کچھ عرصہ عدت کا اپنے گھر گزارا مگر تنہائی اور بڑھاپے کی وجہ سے باقی عدت اپنے بیٹے کے گھر گزارنا چاہتی ہے، کیا اس کی اجازت ہے یا نہیں؟ اور کیا دو بارہ عدت شروع کرنی ہو گی؟

Answer

بصورتِ مسئولہ تنہائی اور بڑھاپے کی وجہ سے بیٹے کے گھر عدت گزارنے کی گنجائش ہے ۔ اور از سر نو عدت شروع کرنے کی ضرورت نہیں بقیہ ایام کی تکمیل کافی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:

وتعتدان أي معتدة طلاق وموت في بيت وجبت فيه ولا يخرجان منه إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل أو تخاف انهدامه أو تلف مالها أو لا تجد كراء البيت ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لا قرب موضع إليه. قوله نحو ذلك، منه ما في الظهيرية: لو خافت بالليل من أمر الميت والموت ولا أحد معها لها التحول والخوف شديد وإلا فلا. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۵۳۶، فصل في الحداد).
وفي الطحطاوي على الدر: قوله ونحو ذلك من الضرورات كما إذا لم يكن معها أحد في البيت وقلبها يخاف ليلاً من أمر الميت والموت خوفاً شديداً فلها التحول وإن لم يكن شديداً فليس لها التحول ظهيرية. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۲۳۱، باب العدة).

احسن الفتاوی میں ہے:
اگر تنہائی کی وجہ سے جان یا عزت یا مال پر خطرہ ہو یا اکیلی ہونے کی وجہ سے سخت وحشت ہوتی ہو تو دوسرے کسی قریبی مکان میں عدت گزار سکتی ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۴۴۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.