نو مسلمہ پر عدتِ وفات کا حکم:
Question
ایک کافر ہ عورت کا نکاح کا فر مرد سے ہوا تھا پھر اس کافر مرد کا انتقال ہو گیا اس کے بعد کافرہ عورت اسلام لے آئی، تو عدت لازم ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر ایام عدت باقی ہیں تو عدت گزارنا لازم ہے، اس لئے کہ اسلام لانے کے بعد اسلامی احکام کی مکلف ہو گئی اور عدت بھی اسلامی احکام میں سے ایک حکم ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
لو أسلمت الكافرة في العدة لزمها الإحداد فيما بقي من العدة كذا في الجوهرة النيرة. (الفتاوى الهندية: ۱/۵۳٤).
بدائع الصنائع میں ہے:
فإن أسلمت الكتابية في العدة لزمها فيما بقي من العدة ما يلزم المسلمة بأن المانع من اللزوم هو الكفر وقد زال بالإسلام. (بدائع الصنائع: ۳/۲۰۸، أحكام العدة، ط: سعيد).
فتاوی شامی میں ہے:
قوله مسلمة شمل من أسلمت في العدة، فتحد فيما بقي منها. (فتاوى الشامي: ۳/۵۳۰، باب الحداد، ط: سعيد).
وفيه أيضا: لأن المرأة إن كانت مسلمة فقد التزمت أحكام الإسلام ومن حكمه وجوب العدة. (فتاوى الشامي: ۳/ ۱۸۹، باب نكاح الكافر، ط: سعيد).
فتاویٰ دار العلوم دیوبند (۱۰/۳۰۸) پر یہ مرقوم ہے کہ نو مسلمہ سے فوراً نکاح درست ہے ۔ لیکن مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.