مدتِ عدت ختم ہونے کے بعد وفات کی خبر ملنے پر عدت کا حکم:
Question
ایک شخص کا انتقال ہو گیا لیکن بیوی کو اطلاع نہ مل سکی عرصہ دراز گزر جانے کے بعد خبر ملی تو اب عدت گزارنا لازم ہے یا نہیں؟ جب کہ چار ماہ دس دن پورے ہو چکے ہیں بلکہ اس سے زائد عرصہ گزر گیا ۔ یا جس وقت اطلاع ملی اس وقت سے عدت شروع ہو گی ۔ برائے مہربانی حکم شرعی سے مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ جس دن شوہر کی وفات ہوئی اسی دن سے عدت شروع ہو چکی تھی اور چار ماہ دس دن گزرتے ہی عدت ختم ہو گئی، اب عرصہ دراز کے بعد خبر و اطلاع ملنے پر دوسری عدت کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ عدت کا تعلق وفات سے ہے ۔ خبر و اطلاع سے نہیں ہے، لہذا بغیر اطلاع کے بھی عدت شروع ہو جاتی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں بدائع میں ہے:
وتنقضي العدة بدون العلم به
وعلى هذا يبني وقت وجوب العدة أنها تجب من وقت وجود سبب الوجوب من الطلاق والوفاة وغير ذلك حتى لو بلغ المرأة طلاق زوجها أو موته فعليها العدة من يوم طلق أو مات عند عامة العلماء وعامة الصحابة رضي الله عنه م. (بدائع الصنائع: ۳/۱۹۰، أحكام العدة، ط: سعيد. وكذا في الهداية: ۲/٤۲۵).
البحر الرائق میں ہے:
ومبدأ العدة بعد الطلاق والموت يعني ابتداء عدة الطلاق من وقته وابتداء عدة الوفاة من وقتها سواء علمت بالطلاق والموت أو لم تعلم حتى لو لم تعلم ومضت العدة فقد انقضت. (البحر الرائق: ٤/۱٤٤، كوئته).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.