دو سال کی جدائی کے بعد طلاق ہونے پر عدت کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #162Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱۲): عدت کا بیان

Question

ایک شخص کے بیوی سے دو بچے ہیں، لیکن اختلاف کی وجہ سے دو سال سے شوہر سے الگ ہے، ملاپ نہیں ہوا اور اب طلاق دے دی بعض لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ عدت کا مقصد رحم کے خالی ہونے کا یقین کرنا ہے اور وہ یقین پہلے سے موجود ہے، لہذا اب عورت پر عدت نہیں، شریعت کا کیا حکم ہے ۔ اور عدت کی کیا حکمتیں ہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ دو سال کی جدائیگی کے بعد طلاق ملنے پر عدتِ طلاق گزارنا لازم اور ضروری ہے، اس لیے کہ عدت کا مقصد رحم کے خالی ہونے کے ساتھ ساتھ پہلا نکاح ختم ہونے اور رشتہ منقطع ہونے پر ملال و افسوس اور حزن کا اظہار بھی مقصود ہے، گویا رشتہ نکاح کے احترام کی رعایت ہے، یہی وجہ ہے کہ عدت ان عورتوں پر بھی لازم قرار دی گئی ہے جو نابالغہ ہوں یا سن ایاس کو پہنچ چکی ہوں، حالانکہ بلوغ سے قبل اور سن ایاس کو پہنچنے کے بعد عورتیں حاملہ نہیں ہو سکتیں، اور نسب کے اختلاط کا کوئی شبہ نہیں، اس کے باوجود شریعتِ مطہرہ نے ان پر بھی عدت واجب قرار دی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:

ثلاث حيض كوامل

فالأولي لتعرف براء ة الرحم، والثانية لحرمة النكاح. وفي الشامية: قوله فالأولي الخ بيان لحكمة كونها ثلاثاً مع أن مشروعية العدة لتعرف براء ة الرحم أي خلوه عن الحمل وذلك يحصل بمرة فبين أن حكمة الثانية لحرمة النكاح أي لا ظهار حرمته. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۵۰۵، باب العدة، ط: سعيد).

ہدایہ میں ہے:

لأن العدة وجبت للتعرف عن براءة في الفرقة الطارية على النكاح. وفي فتح القدير: ثم كونها تجب للتعرف لا ينفي أن تجب لغيره أيضاً، وقد أفاد المصنف فيما سيأتي أنها أيضاً تجب لقضاء حق النكاح بإظهار الأسف عليه، فقد يجتمعان كما في مواضع وجوب الأقراء وقد ينفرد الثاني كما في صور الأشهر. (الهداية مع فتح القدير: ٤/۳۰۸، باب العدة، ط: دار الفكر).

فتاوی دار العلوم میں مذکور ہے کہ پانچ سال علیحدہ رہنے کے باوجود عدت واجب ہے، اگر شوہر نے اس سے وطی یا خلوت کی ہے ۔ ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱۰/۳۲۰، مدلل مکمل) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی رحیمیہ: ۸/٤۱۳، شوہر سے دو برس کی جدائیگی کے بعد عدت کا وجوب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.