طویل عرصہ جدائی کے بعد بچہ پیدا ہونے پر ثبوتِ نسب کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص پچھلے چند سالوں سے سفر پر ہو، اور اس کی عدم موجود گی میں اس کی بیوی کے یہاں بچہ پیدا ہو جائے تو بچہ کا نسب اس آدمی سے ثابت ہوگا یا نہیں؟
Answer
رشتہ نکاح کا وجود ثبوتِ نسب کے لیے کافی ہے، پس نکاح کی موجود گی میں جو بچہ بھی پیدا ہو وہ ثابت النسب ہوگا، لہذا صورتِ مسئولہ میں بھی جب نکاح موجود ہے تو جدائی کا اعتبار نہیں بچہ کا نسب اس آدمی سے ثابت ہوگا، ہاں شوہر بذریعہ لعان نسب کی نفی کر سکتا ہے، لیکن چونکہ اس ملک میں قانون لعان نافذ نہ ہونے کی بنا پر بذریعہ لعان بھی نفی ممکن نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
قال رسول الله ﷺ: "الولد للفراش وللعاهر الحجر". (رواه البخاري: ۲/۹۹۹، باب الولد للفراش وللعاهر الحجر).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولي) النكاح الصحيح وما هو في معناه والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير دعوة ولاينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان فإن كانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفي نسب الولد كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية: ۱/۵۳٦، الباب الخامس عشر في ثبوت النسب).
فتح القدیر میں ہے:
وحاصله أن الثبوت يتوقف على الفراش وهو يثبت مقارناً للنكاح المقارن للعلوق فتعلق وهي فراش فيثبت نسبه
قال بعض المشايخ
قيام الفراش كافٍ، ولا يعتبر إمكان الدخول بل النكاح قائم مقامه كما في تزوج المشرقي بمغربية. (فتح القدير: ٤/۳٤۹، ۳۵۰، باب ثبوت النسب، ط: دار الفكر).
در مختار میں ہے:
أن الفراش على أربع مراتب وقد اكتفوا بقيام الفراش بلا دخول كتزوج المغربي بمشرقية بينهما سنة فولدت لستة أشهر مذ تزوجها لتصوره كرامة أو استخداماً
وفي الشامية: قوله على أربع مراتب
وقوي وهو فراش المنكوحة ومعتدة الرجعي فإنه فيه لا ينتفي إلا باللعان. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۵۵۰، فصل في ثبوت النسب، ط: سعيد. وكذا في الدر المختار: ۳/٦۹٤، باب الاستيلاد، ط: سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.