طلاق ثلاثہ کے بعد ساتھ رہنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #170Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱۲): عدت کا بیان

Question

تین طلاق کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے کے تعاون وغیرہ کے لئے بڑھاپے کی وجہ سے ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ میں بڑھا پے میں ایک دوسرے کے تعاون اور خدمت کے لئے فقہاء نے ساتھ رہنے کی اجازت دی ہے، اسی طرح عورت کا کوئی پر سان حال نہ ہو اور نفقہ، سکنی وغیرہ کا انتظام بھی مشکل ہو اور فتنہ وغیرہ کا کوئی اندیشہ بھی نہ ہو تو آپس میں ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کے تعاون کی اجازت ہے لیکن میاں بیوی جیسا معاملہ نہ ہو ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے

قال: ولهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتهي. وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة
وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف. وفي الشامية: قوله وسئل شيخ الإسلام حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكني معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه أو معها أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها أو نحو ذلك، والظاهر أن التقييد يكون سنهما ستين سنة وبوجود الأولاد مبني على كونه كان كذلك في حادثة السؤال. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۵۳۸، فصل في الحداد).

(و مثلہ فی البحر الرائق: ٤/۱۵٤، فصل فی الحداد، ط: کوئتہ) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
بڑھاپے اور مرض کی پیش نظر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور خدمت جائز ہے، بشرطیکہ میاں بیوی جیسا معاملہ نہ ہونے پائے اگر کسی ناجائز معاملہ میں ابتلاءِ کا ادنی سا خطرہ بھی ہو تو بالکل علیحدگی اختیار کرنا فرض ہے، اور ایک مکان میں رہنا جائز نہیں ہے ۔ (احسن الفتاوی ۵/۱٦۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.