حق حضانت میں نانی پھوپھی پر مقدم ہے:

2 min readFatwa Vol 4 #183Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱٤): پر ورش کا بیان

Question

ایکسیڈنٹ میں میاں بیوی کا انتقال ہو گیا، ان کا ایک چھ سالہ لڑکا ہے اور دو لڑکیاں ہیں، ایک کی عمر نو سال ہے اور دوسری بہت چھوٹی ہے، اور اس شخص کی ماں اور بہن ہے لیکن ماں نے بچوں کی پر ورش سے انکار کر دیا، اور اس عورت کی ماں ہے، اب اس مرد کی بہن اور عورت کی ماں دونوں بچوں کی پر ورش کی خواہاں ہیں، اور دونوں میں نانی زیادہ نیک اور عزت دار ہے، لہذا دونوں میں از روئے شرع بچوں کی پر ورش کی حقدار کون ہو گی؟

Answer

بصورتِ مسئولہ بچوں کی نانی پر ورش کی زیادہ حقدار ہو گی، لہذا بحکمِ شرع اولاد کو نانی کی پر ورش اور زیر تربیت دیا جائے گا، اور پھوپھی نانی کی موجود گی میں حقدار نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولي من كل واحدة وإن علت. (الفتاوى الهندية: ۱/۵٤۱، باب الحضانة).

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

فإن ماتت الأم فأم الأم أولي بحضانة الولد وتعهده

وفي الخلاصة والخانية: وإذا بطل حق الأم كانت الحضانة للجدة من قبل الأم وإن علت. (الفتاوى التاتارخانية: ٤/۹۱، حكم الولد عند افتراق الزوجين. والدر المختار: ۳/۵٦۳، سعيد. والهداية: ۲/٤۳٦).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.