نانی کی موجود گی میں دادا، دادی حقدار نہیں:
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں:
میری بیٹی بیوہ ہوئی، اس کے شوہر کے انتقال کے بعد اپنے دونوں بچوں کو لے کر یہاں رہتی ہے، اب اگر یہ نکاحِ ثانی کرے تو کیا بچوں کے دادا، دادی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ بچوں کو زبردستی اس کی ماں سے لے لے، جب کہ بچوں کے نانا، نانی اپنے پاس رکھنے کے لئے تیار ہیں ۔ اور اگر وہ نکاح نہ کرے تو بچے کب تک اپنی ماں کے پاس رہ سکتے ہیں، اور اولاد میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہیں ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر یہ عورت نکاحِ ثانی بچے کے غیر محرم کے ساتھ کر لے تو ان بچوں کی تربیت کی مستحق ان کی نانی ہے، لہذا نانی کی موجود گی میں دادا، دادی کو حق پر ورش حاصل نہیں ۔
ملاحظہ ہو "البحر الرائق" میں ہے:
قوله "أحق بالولد أمه قبل الفرقة وبعدها، أي في التربية والإمساك لما قدمناه
ولا (حضانة) للمتزوجة بغير محرم
قوله "ثم أم الأم، يعني بعد الأم الأحق أمها، وهو شامل لما إذا كانت الأم ميتة أو ليست أهلاً للحضانة، ففي كل منهما ينتقل الحق إلى أم الأم، لأن هذه الولاية مستفادة من قبل الأمهات، فكانت التي هي من قبلها أولي وإن علت، فالجدة من قبل الأم أولي من أم الأب ومن الخالة، وصححه الولوالجي. (البحر الرائق: ٤/۱٦۷، باب الحضانة، كوئته).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولي من كل واحدة وإن علت. (الفتاوى الهندية: ۱/۵٤۱، باب الحضانة).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
بچہ کے غیر محرم کے ساتھ نکاح کرنے سے ماں کا بچہ کی پر ورش کا حق ساقط ہو جاتا ہے، اور یہ حق بچہ کی نانی وغیرہ کو علی الترتیب حاصل ہو جاتا ہے، اس کے بعد ماں زبردستی بچہ کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتی ۔ (فتاوی رحیمیہ ۸/٤۵۸) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (امداد الاحکام ۲/۸۷٤، فتاوی حقانیہ ٤/٤۲٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.