شوہر کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنا:
Question
میرے شوہر نہایت ہی بخیل قسم کے آدمی ہیں، تقریباً بیس سال سے ہم شادی شدہ ہیں لیکن کوئی بھی پرانے کپڑے یا جوتے وغیرہ اگرچہ پھٹ جائے کسی کو نہیں دیتے نئی چیزیں خریدتے ہیں، لیکن پرانی چیزیں نہیں دیتے، لہذا ایک مرتبہ میں نے اپنے شوہر کے کچھ پرانے جوتے اور کپڑے وغیرہ ان کے علم کے بغیر فقراء کو دے دیے، بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی اجازت نہیں تھی، کیوں کہ وہ چیزیں میری نہیں تھیں، اب اگر شوہر کو بتاؤں گی تو بہت غصہ ہوں گے کیوں کہ ان کا مزاج بہت سخت ہے، میں جاننا چاہتی ہوں کہ میں کس طرح اس کی تلافی کروں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ معمولی چیز کا صدقہ کرنا بلا اجازتِ شوہر شوہر کے مال میں سے جائز ہے اور اس کا مدار عرف پر ہے، اگر عام طور پر عرف میں شوہر کی اجازت کے بغیر معمولی چیزوں کا صدقہ کرتے ہیں اور شوہر ناراض نہیں ہوتا تو جائز ہے، لہذا شوہر کو بتلانے کی ضرورت نہیں ورنہ لڑائی جھگڑے پیدا ہوں گے، اگر احتیاط پر عمل کرنا ہو تو ان پرانے کپڑوں کی قیمت لگا کر اتنی رقم یا کوئی اور چیز اپنی ملکیت سے شوہر کو دے دے، لیکن آئندہ اس بات کا خیال رکھے کہ اگر فتنہ و لڑائی کا اندیشہ ہو تو صدقہ نہ کرے بلکہ شوہر کو ترغیب دے کہ شوہر خود صدقہ کر لے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ولا بأس للمرأة أن تتصدق من بيت سيدها أو زوجها باليسير كرغيف ونحوه ملتقي ولو علم منه عدم الرضا لم يجز، وفي الشامية: قوله كرغيف لأن ذلك غير ممنوع عنه في العادة، هداية، بقي لو كان في بيته من في مقام المرأة كحاجبه وغلامه نقل ابن الشحنة عن ابن وهبان أنه لم يره في كلامهم وأنه ينبغي أن يجوز قياساً عليها ثم نقل عنه أنه لو كانت الزوجة ممنوعة من التصرف في بيته تأكل معه بالفرض ولا يمكنها من طعامه والتصرف في شيء من ماله ينبغي أن لا يجوز لها الصدقة، واعترضه بأنه جري العرف بالتصدق بذلك مطلقاً تأمل. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ٦/۱٦۲، ط: سعيد).
شرح منظومہ ابن وہبان میں ہے:
قلت: الذي ينبغي تحكيم العرف والعادة في ذلك وقد جري العرف بالتصدق بذلك مطلقاً سواء كانت تأكل بالفرض أولا. (شرح منظومة ابن وهبان: ۲/۹۳ فصل من كتاب المأذون، ط: الوقف المدني ديوبند).
وأيضاً في شرح منظومة ابن وهبان:
قال: والزوجة وفتاة البيت وهي الأمة إذا تصدقت بالطعام لا بأس بذلك إذا كان على الرسم للعرف وإن لم يكن بإذن الزوج والمولي، وقدره في الهداية بالرغيف ونحوه. (شرح منظومة ابن وهبان: ۲/۹۲، فصل من كتاب المأذون، ط: الوقف المدني ديوبند. وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۹۲، ط: كوئته).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولا بأس للمرأة أن تتصدق من بيت زوجها بشيء يسير كرغيف ونحوه بدون استطلاع رأي الزوج كذا في الكافي. قال رضي الله عنه وفي عرفنا المرأة والأمة لا تكون مأذونة بالتصدق بالنقد كذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۵/۷۳).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.