ترک فعل بد پر قسم کھانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #240Urdu
Vol. 4كتاب الأيمان والنذورباب (۱): ایمان سے متعلق احکام

Question

ایک شخص کو استمناء بالید کی بری عادت تھی، ایک دن وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوا تو اس نے قسم کھا کر کہا "اگر یہ مصیبت دور ہو جائے تو واللہ میں یہ فعل بد کبھی نہیں کروں گا ۔ مصیبت دور ہو گئی مگر بعد میں اس نے کئی مرتبہ یہ فعل کیا ۔ اسی طرح ایک آدمی نے قسم کھائی کہ میں آئندہ کبھی ٹی وی نہیں دیکھوں گا، لیکن پھر کئی مرتبہ دیکھی ۔ اسی طرح ایک لڑکا نماز نہ پڑھتے ہوے پکڑا گیا تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ واللہ میں اب سے کبھی نماز نہیں چھوڑوں گا، مگر بعد میں بہت سی نماز یں چھوڑیں ۔ تو اب ان ـلوگوں پر کیا لازم ہے اور شرعاً کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ انہوں نے ترکِ فعل پر قسم کھائی لیکن بعد میں انہوں نے وہ کام کیے، لہذا اپنی قسم میں حانث ہو گئے، اور شرعاً قسم توڑنے پر قسم کا کفارہ لازم ہوتا ہے، لہذا ان لوگوں پر شرعاً قسم توڑنے کی وجہ سے کفارۂ یمین لازم آئے گا ۔ اور ہر شخص پر صرف ایک کفارہ لازم ہوگا، جس کی مزید وضاحت "باب سوم، تداخل کفارہ" کے تحت ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔
اور کفارہ کی تفصیل درجِ ذیل ہے:
(۱) دس مسکینوں کو صبح شام دو وقت شکم سیر کھانا کھلانا ۔
(۲) یا دس مسکینوں کو کپڑا دینا ۔
(۳) اگر ان دونوں چیزوں میں سے کسی چیز کی قدرت و استطاعت نہ ہو تو تین دن مسلسل روزے رکھنا ۔
البحر الرائق میں ہے:

(قوله: وعلى آت منعقدة، وفيها كفارة فقط) أي حلفه على آت تسمي منعقدة نفياً كان أو إثباتاً. وحكمها وجوب الكفارة إذا حنث لقوله تعالى: ﴿ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الأيمان فكفارته﴾ الآية. والمراد منها اليمين في المستقبل بدليل قوله تعالى: ﴿واحفظوا أيمانكم﴾، ولا يتصور الحفظ عن الحنث والهتك إلا في المستقبل

وكفارته تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين كما في الظهار أو كسوتهم بما يستر عامة البدن

والأصل في ذلك قوله تعالى: ﴿فكفارته إطعام عشرة مساكين من أوسط ما تطعمون أهليكم أو كسوتهم أو تحرير رقبة﴾

ويجوز في الإطعام التمليك والإباحة، فإن ملك أعطي نصف صاع من بر أو صاعاً من تمر أو صاعاً من شعير لكل مسكين، وإن أباح غداهم وعشاهم

وإن عجز عن أحدها صام ثلاثة أيام متتابعة، أي إن لم يقدر على الإعتاق والإطعام والكسوة كفر بالصوم لقوله تعالى: ﴿فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام﴾ وشرطنا التتابع عملاً بقراء ة ابن مسعود رضي الله عنه "متتابعات" وقراء ته كروايته، وهي مشهورة جاز الزيادة بها على القطعي المطلق. (البحر الرائق: ٤/۲۸۰، ۲۸۹، ۲۹۰، كوئته).

مزید ملاحظہ ہو: (بدائع الصنائع: ۵/۹٦-۱۱۱ ۔ و تبیین الحقائق: ۳/۱۱۲ ۔ و المبسوط: ۸/۱۲۸ ۔ و الفقہ الإسلامي و أدلتہ: ۳/٤۹۰ ۔ و فتاوی الشامي: ۳/٤۷۹ ۔ و آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٤/۲۸۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.