اولاد کی نذر میں ولد الزنا کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #270Urdu
Vol. 4كتاب الأيمان والنذورباب (۲): نذر سے متعلق احکام

Question

ایک عورت شادی شدہ ہے اور اس نے منت مانی تھی کہ اگر اس کو اولاد ہوئی تومیں اس بچہ کو لے کر عمرہ کروں گی، مگر ڈاکٹروں کی تحقیق یہ تھی کہ اس کے شوہر سے اس کو اولاد نہیں ہو سکتی، پھر اس نے زنا کیا اور اس زنا کے نتیجے میں اس کو بچہ پیدا ہوا ہے، اب کیا اس عورت پر عمرہ کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ عورت پر عمرہ کر کے اپنی نذر کا ایفاء کرنا ضروری ہے، اس لیے کہ اس نے اولاد کی منت مانی، اور بچہ پیدا ہوا اور بچہ ثابت النسب بھی ہے ۔ حدیث میں آتا ہے:

"الولد للفراش وللعاهر الحجر"

لہذا شرط معلق پوری ہونے پر ایفائے نذر لازم ہو جاتا ہے، ہاں عورت اس فعل قبیح کی وجہ سے گناہ گار ضرور ہوئی، اس پر توبہ کرنا لازم ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:

ثم إن المعلق فيه تفصيل، فإن علقه بشرط يريده كإن قدم غائبي أو شفي مريضي، يوفي وجوبا إن وجد الشرط. وفي الشامي: (قوله: إن المعلق) اعلم أن المذكور في كتب ظاهر الرواية أن المعلق يجب الوفاء به مطلقاً: أي سواء كان الشرط مما يريد كونه أي يطلب حصوله كإن شفي الله مريضي أو لا كإن كلمت زيداً. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۷۳۸ أحكام النذر، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.