ولد الزنا کے عقیقہ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 6 #190Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۴): أحكام العقيقة

Question

ایک شخص ایک عورت کے ساتھ بلا نکاح زندگی گزارتا تھا اور دونوں غیر مسلم تھے، بعد ازاں مرد مسلمان ہو گیا، لیکن اب تک اس کا نکاح نہیں ہوا تھا کہ ان کے ہاں ایک بچی کی ولادت ہوئی، عورت تا ہنوز مسلمان نہیں ہوئی، عیسائی ہے، اب یہ مسلمان شخص اپنی بچی کا عقیقہ کر سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ بچی مسلمان سمجھی جائے گی، لہذا مسلمان والد اس کی طرف سے عقیقہ کر سکتا ہے، لیکن زنا کے گناہ سے توبہ و استغفار لازم اور ضروری ہے، بیوی کو اسلام کی دعوت دے کر مسلمان بنا کر اس کے ساتھ نکاح کر لیا جائے، اور اگر وہ مسلمان ہونے پر راضی نہیں ہوتی تو زنا سے بچنے کے لیے اسی حالت میں اس سے نکاح کر لے اور اسلام کی دعوت دیتا رہے۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

ورأيت في فتاوى الشهاب الشلبي قال: واقعة الفتون في زماننا مسلم زني بنصرانية فأتت بولد فهل يكون مسلماً؟ أجاب بعض الشافعية بعدمه وبعضهم بإسلامه، وأفتى قاضي القضاة الحنبلي بإسلامه أيضاً

قال العلامة الشامي: قلت: يظهر لي الحكم بالإسلام لحديث الصحيح "كل مولود يولد على الفطرة حتى يكون أبواه هما اللذان يهودانه أو ينصرانه" فإنهم قالوا: إنه جعل اتفاقهما ناقلاً له عن الفطرة فإذا لم يتفقا بقي على أصل الفطرة أو على ما هو أقرب إليهما ولأن الكفر أقبح القبيح فلا ينبغي الحكم به على شخص بدون أمر صريح

(الدر المختار مع الشامي: ۳/۱۹۷، سعيد).

نیز بخاری میں جریج والی حدیث سے پتا چلتا ہے کہ زانی باپ پر بھی اب کا اطلاق ہوتا ہے ۔
ملاحظہ ہو بخاری میں ہے:

وقال الليث: حدثني جعفر ابن ربيعة عن عبد الرحمن بن هرمز قال: قال أبو هريرة رضي الله تعالى عنه: قال رسول الله صلي عليه وسلم: نادت امرأة ابنها وهو في صومعته قالت: يا جريج قال: اللهمّ أمي وصلاتي، فقالت: يا جريج قال: اللهمّ أمي وصلا تي، قالت: يا جريج قال: اللهمّ أمي وصلا تي، قالت: اللهمّ لا يموت جريج حتى ينظر في وجوه المياميس، وكانت تأوي إلى صومعته راعية ترعي الغنم فولدت، فقيل لها: ممن هذا الولد؟ قالت: من جريج، نزل من صومعته، قال جريج: أين هذه التي تزعم أن ولدها لي قال: يا بابوس من أبوك؟ قال: راعي الغنم. (رواه البخاري: ۱/۱٦۱).

خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان بچی کی طرف سے مسلمان باپ عقیقہ کر سکتا ہے، اگر چہ میراث وغیرہ کے احکام میں شریعت نے زانی کا نسب ولد الزنا سے منقطع کر دیا ہے، لیکن بیٹی سے عدمِ نکاح اور زکوۃ نہ دینے وغیرہ احکام میں جزئیت کا اعتبار کرتے ہوے باپ کے قائم مقام تسلیم کیا ہے ۔

وللتفصيل راجع: (رد المحتار: ۳/۱۹۷، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.