موت کے بعد عقیقہ کا حکم:
Question
ایک شخص کا انتقال ہو گیا اور اس کا عقیقہ نہیں ہوا تھا تو کیا اس کی طرف سے عقیقہ کیا جا سکتا ہے؟
Answer
عقیقہ بچہ کی نعمت کے شکریہ کے لیے ہوتا ہے جس کا تعلق زندگی کے ساتھ ہے موت کے بعد عقیقہ نہیں ہوتا، ہاں قربانی کے ذریعہ ایصالِ ثواب ہو سکتا ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
وكذلك إن أراد بعضهم العقيقة عن ولد ولد له من قبل، لأن ذلك جهة التقرب إلى الله عز شأنه بالشكر على ما أنعم عليه من الولد؛كذا ذكر محمد في "نوادر الضحايا". (بدائع الصنائع: ۵/۷۳، سعيد).
(وكذا في فتاوى الشامي: ٦/۳۲٦، سعيد، وتبيين الحقائق: ٦/۸، إمدادية ملتان).
نیز عقیقہ دفع مصائب وبلا کے لیے ہوتا ہے جس کا تعلق زندگی سے ہے۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
وعن سمرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "كل غلام رهينة بعقيقته، تذبح عنه يوم سابعه ويسمي فيه، ويحلق رأسه". (رواه اصحاب السنن الأربعة، وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح).
فیض الباری میں ہے:
قلت: بل يجوز إلى أن يموت لما رأيت في بعض الروايات أن النبي ﷺ عق عن نفسه بنفسه. (فيض الباري: ٤/۳۳۷).
احسن الفتاوی میں ہے:
انتقال کے بعد عقیقہ نہیں ہے کیوں کہ عقیقہ رد بلا کے لیے ہوتا ہے۔ (احسن الفتاوی: ۷/۵۳٦)۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
عقیقہ زندگی میں کیا جاتا ہے مرنے کے بعد عقیقہ کا مستحب ہونا ثابت نہیں، اگر مردہ بچہ کے عقیقہ کو مستحب نہ سمجھا جائے محض شفاعت کی امید اور مغفرت کی لالچ میں کر دیا جائے تو گنجائش معلوم ہوتی ہے، جیسے کسی نے حج نہیں کیا اور بلا وصیت مر گیا اور وارث نے اس کی مغفرت کی امید پر اپنے خرچ سے حج بدل کیا تو امید ہے کہ حق تعالی قبول فرمائیں۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/٤۳۲)۔
امداد الاحکام میں ہے:
عقیقہ زندہ کا ہو سکتا ہے مگر مردہ کی طرف سے اضحیہ کی نیت سے کرے
قلت: جواز الأضحية عن الصغير الميت يستدعي جواز العقيقة عنه بالأولي لعدم ورود الأمر بالأضحية عنه وقد ورد بالعقيقة وأنه مرتهن بعقيقته وأخرج ابن حزم عن بريدة الأسلمي قال: إن الناس يعرضون يوم القيامة على العقيقة كما يعرضون على الصلوات الخمس ذكره الحافظ في الفتح. (
امداد الاحکام: ٤/۲۳٤، ۲۳٦)۔
حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ کے نزدیک موت کے بعد عقیقہ کرنا جائز ہے البتہ استحباب ادا نہیں ہوگا۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.