طلباء پر خرچ کرنے کی نذر کا حکم:
Question
ایک شخص نے کہا: میں ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے ۱۰۰رینڈ دار العلوم کے طلباء پر خرچ کروں گا، کیا ان الفاظ سے نذر صحیح ہوئی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ مذکورہ جملہ میں کوئی صیغۂ التزام نہیں ہے اور نہ التزام پر دال ہے، لہذا ان الفاظ سے نذر منعقد نہیں ہوئی ۔
ملاحظہ فرمائیں بدائع الصنائع میں ہے:
ركن النذر هو الصيغة الدالة عليه وهو قوله لله عز شانه على كذا أو على كذا أو هدي أو صدقة أو مإلى صدقة. (بدائع الصنائع: ۵/۸۱، سعيد).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: ایک شخص نے بحالت بیکاری زبان سے حسب ذیل جملے ادا کیے اور ان کلمات کی ادائیگی کے وقت نیت بھی پختہ تھی، وہ جملے یہ ہیں: میں اپنی آمدنی کا چالیسواں حصہ غرباء و مساکین کو اور بیسواں حصہ مساجد و عید گاہ کو دیا کروں گا، اب وہ شخص کہتا ہے کہ آمدنی کا حساب کرنا پھر اس کا چالیسواں اور بیسواں حصہ نکالنا اس وقت مجھے سخط دشوار ہے، اب میں کیا کروں، اس گناہ سے کس طرح بچوں؟
الجواب: اگر الفاظ وہی استعمال کیے تھے جو سوال میں مذکور ہیں ان کے ساتھ کوئی لفظ ایسا نہیں کہا کہ میری ملازمت ہو گئی یا آمدنی ہو گئی تومیں ایسا کروں گا، نیز کوئی لفظ لزوم وجوب کا مثلاً اللہ کے لیے ایسا کروں گا یا میرے ذمہ ہے کہ ایسا کروں اس قسم کا کوئی لفظ الفاظ مذکورہ کے ساتھ نہیں کہا تو یہ الفاظ مذکورہ نہ یمین کے الفاظ ہیں اور نہ نذر کے ان سے اس شخص کے ذمہ کوئی چیز لازم نہیں ہوئی اسے اختیار ہے کہ جس وقت جتنا آسان سمجھے صدقہ و خیرات کرے، علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله نے اپنے رسالہ "النذر بالتصدق" میں نذر کے صیغے بیان کرتے ہوے لکھا ہے:
"أما الصيغة فـ للّه وعلى ونذرت للّه وأناْ أفعل إن كان معلقاً كأناْ أحج إن دخلت الدار بخلاف أنا أحج منجزاً
۔
(آخر الأشباه والنظائر: طبع مصر صفحة: ۱۰٤).
اس عبارت میں یہ بھی تصریح ہے کہ کہنے والے کی نیت اگر چہ نذر کی ہو مگر جب تک الفاظ لزوم وغیرہ نہ کہے محض نیت سے نذر منعقد نہیں ہوتی ۔ (امداد المفتین: ۲/٦۱۲، دار الاشاعت) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
نذر کے لیے صیغہ التزام ضروری ہے (فتاوی محمودیہ: ۱٤/۵۹، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
باب
(۳)
كفارهٔ يمين كا بيان
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.